خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 531 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 531

خطبات طاہر جلد ۱۰ 531 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء (القمر:۱۲) ہم نے اس کے جواب میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جن سے مسلسل برسنے والا پانی نازل ہوا۔وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونَا ( القمر :۱۳) اور ہم نے زمین سے بھی چشمے پھوڑ دیئے۔فَالْتَقَى الْمَاءِ پس یہ دونوں پانی یعنی آسمان کا پانی اور زمین کا پانی اکٹھے ہو گئے عَلَى أَمْرِ قَدْ قُدِرَ ایک ایسی بات پر جس کا فیصلہ کیا جاچکا تھا وَحَمَلْنَهُ عَلَى ذَاتِ الْوَاجِ وَدُسُرٍ اور ہم نے اسے ایک ایسی چیز پر اٹھالیا یعنی سیلاب میں ایک ایسی چیز کے ذریعہ اسے بچایا جو پھٹیوں اور میخوں سے بنائی گئی تھی تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا (القمر: ۱۵) وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی۔جَزَاءً لِمَنْ كَانَ كُفر یہ جزا ہے اس شخص کی جس کا انکار کیا گیا ہے۔اس دعا کا جماعت احمدیہ کے ساتھ خصوصیت سے اس لئے رشتہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے بھی نوح کے زمانے کی باتیں کی گئیں اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے الہاما ایک سے زائد مرتبہ فرمایا کہ تجھ پر بھی نوح جیسا زمانہ آئے گا اور ہم ویسے ہی تیری مدد فرمائیں گے چنانچہ انہی الہامات کی روشنی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کشتی نوح لکھی ایک زمانہ ایسا تھا کہ جب کوئی احمدی بچہ ایسا نہیں مل سکتا تھا جس نے کشتی نوح کا مطالعہ نہ کیا ہولیکن آج میں سمجھتا ہوں کہ ہماری بہت سی نسلیں ایسی ہیں بہت سے ممالک میں احمدی نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے شاید نام تو سن رکھا ہو لیکن انہیں اس اہم کتاب کے مطالعہ کی توفیق نہ ملی ہو۔یہ اس لئے ضروری ہے کہ یہ کشتی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا کی گئی ہے یہ پھٹوں اور میخوں سے نہیں بنائی گئی ہے بلکہ ایک تعلیم سے بنائی گئی ہے۔پس آج کے زمانہ میں جو ہلاکتوں کا زمانہ ہے اور طرح طرح کے عذاب امڈ آنے پر تیار بیٹھے ہیں اس موقعہ پر جماعت احمدیہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ کشتی نوح کے مضمون سے خوب اچھی طرح واقف ہو اور معلوم کرے کہ کس کشتی کے سہارے اس نے بچنا ہے ورنہ جو بھی اس کشتی میں سوار نہیں ہو گا اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔دوستم کی ہلاکتیں انسان کو درپیش ہیں ایک روحانی ہلاکت اور ایک مادی ہلاکت اور جیسا کہ ظاہر ہورہا ہے اس زمانہ میں یہ مضمون لفظاً لفظاً ظاہری طور پر نہیں دہرایا جائے گا لیکن معنوی طور پر دہرایا جائے گا۔پس آسمان سے بارش کا برسنا اور زمین کا پانی اگلنا یہ دو معنی اس طرح آج کے زمانے پر