خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 531
خطبات طاہر جلد ۱۰ 531 خطبه جمعه ۲۸ جون ۱۹۹۱ء القمر :۱۲) ہم نے اس کے جواب میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جن سے مسلسل برسنے والا پانی نازل ہوا ۔ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا (القمر (۱۳) اور ہم نے زمین سے بھی چشمے پھوڑ دیئے۔ فَالْتَقَى الْمَام پس یہ دونوں پانی یعنی آسمان کا پانی اور زمین کا پانی اکٹھے ہو گئے عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ایک ایسی بات پر جس کا فیصلہ کیا جا چکا تھا وَحَمَلْتَهُ عَلَى ذَاتِ الْوَاحِ وَدُسُرٍ اور ہم نے اسے ایک ایسی چیز پر اٹھا لیا یعنی سیلاب میں ایک ایسی چیز کے ذریعہ اسے بچایا جو پھٹیوں اور میخوں سے بنائی گئی تھی تَجْرِیْ بِأَعْيُنِنَا (القمر: ۱۵) وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی ۔ جَزَاء لِمَنْ كَانَ كُفر یہ جزا ہے اس شخص کی جس کا انکار کیا گیا ہے۔ اس دعا کا جماعت احمدیہ کے ساتھ خصوصیت سے اس لئے رشتہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے بھی نوح کے زمانے کی باتیں کی گئیں اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے الہاما ایک سے زائد مرتبہ فرمایا کہ تجھ پر بھی نوح جیسا زمانہ آئے گا اور ہم ویسے ہی تیری مدد فرمائیں گے چنانچہ انہی الہامات کی روشنی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کشتی نوح لکھی ایک زمانہ ایسا تھا کہ جب کوئی احمدی بچہ ایسا نہیں مل سکتا تھا جس نے کشتی نوح کا مطالعہ نہ کیا ہولیکن آج میں سمجھتا ہوں کہ ہماری بہت سی نسلیں ایسی ہیں بہت سے ممالک میں احمدی نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے شاید نام تو سن رکھا ہو لیکن انہیں اس اہم کتاب کے مطالعہ کی توفیق نہ ملی ہو۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ یہ کشتی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا کی گئی ہے یہ پھٹوں اور میخوں سے نہیں بنائی گئی ہے بلکہ ایک تعلیم سے بنائی گئی ہے۔ پس آج کے زمانہ میں جو ہلاکتوں کا زمانہ ہے اور طرح طرح کے عذاب اٹڈ آنے پر تیار بیٹھے ہیں اس موقعہ پر جماعت احمد یہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ کشتی نوح کے مضمون سے خوب اچھی طرح واقف ہو اور معلوم کرے کہ کس کشتی کے سہارے اس نے بچنا ہے ورنہ جو بھی اس کشتی میں سوار نہیں ہوگا اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی ۔ دو قسم کی ہلاکتیں انسان کو در پیش ہیں ایک روحانی ہلاکت اور ایک مادی ہلاکت اور جیسا کہ ظاہر ہو رہا ہے اس زمانہ میں یہ مضمون لفظا لفظا ظاہری طور پر نہیں دہرایا جائے گا لیکن معنوی طور پر دہرایا جائے گا۔ پس آسمان سے بارش کا برسنا اور زمین کا پانی اگلنا یہ دو معنی اس طرح آج کے زمانے پر