خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 526
خطبات طاہر جلد ۱۰ 526 خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۹۱ء عمل میں کرتا چلا جاؤں اور ساری زندگی میں تیری رضا حاصل کرتا رہوں۔تجھے خوش کرتا رہوں۔وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِی اور یہی نہیں میری ذریت کو بھی صالح بنادے اور اس ذریت میں آپ سب شامل ہیں۔صرف آنحضرت ﷺ کی جسمانی اولاد ہی نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان جنہوں نے آپ سے تعلق جوڑنا تھا یا آئندہ جوڑیں گے وہ سارے اس دعا میں شامل ہو جاتے ہیں اِنِّي تُبت إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (الاحقاف (1) دیکھیں اب بات کس طرح کھل گئی ہے۔آنحضرت ﷺ عرض کرتے ہیں تو تو جانتا ہے میں تیری طرف لوٹ آیا ہوں میں تو ایسی تو بہ کر چکا ہوں کہ کبھی کسی نے ایسی تو بہ نہیں کی ہوگی اور مجھے کچھ نہیں چاہئے میں یہ دعوی کر سکتا ہوں کہ ہاں میں مسلمان ہوں۔پس اس کے نتیجہ میں میرے بعد میں آنے والے تعلق رکھنے والوں سے بھی احسان کا سلوک فرما اور ان کو بھی ایسے اعمال کی توفیق بخش جن کے ذریعے تو راضی ہو جائے۔پس اسی دعا پر میں آج کا خطبہ ختم کرتا ہوں لیکن میں آپ کو ایک دفعہ پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اس دعا کی دنیا میں ہر جگہ پر ہر دور کے انسان کو ضرورت پڑتی ہے لیکن جیسی آج کے دور میں اس دنیا میں اس جگہ جہاں سے میں یہ خطبہ دے رہا ہوں اس دعا کی ضرورت ہے شاید کبھی کسی اور جگہ ایسی دعا کی ضرورت نہ پڑی ہو۔ایسے ظالم ماحول میں آپ بس رہے ہیں جس کی فضا زہریلی ہے۔جب بچے سانس لیتے ہیں تو دو قسم کی پولوشن میں مبتلا ہوتے ہیں ایک پولوشن (polution) تو بنی نوع انسان کو نظر آ رہی ہے اور اس کے خلاف ان کے دماغ روشن ہو گئے ہیں وہ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کسی طرح اس پولوشن (Polution) کو کم کریں۔اس فضاء کی وہ آلودگی جو جرائم کے ذریعہ خاک کے ذروں کے ذریعہ دھوئیں کے ذریعہ زہریلی گیسوں کے ذریعہ دنیا کو نظر آتی ہے اس سے وہ بڑے سخت متنبہ ہو چکے ہیں اور کوشش بھی کر رہے ہیں لیکن ایک آلودگی ایسی ہے جو اس سے بہت زیادہ ہلاک کرنے والی ہے اور وہ روح کو ہلاک کرنے والی آلودگی ہے وہ اس فضا میں اتنی زیادہ ہے کہ اگر ان کو پتا چلے کہ کس فضا میں دم لے رہے ہیں تو اس خوف سے ان کے دم نکل جائیں کہ کیا ہوا ہے جو ہم اپنی سانسوں میں لے رہے ہیں۔اس کی طرف کوئی توجہ نہیں۔پس جب آپ یہ دعا کیا کریں تو اس رنگ میں دعا کیا کریں کہ آپ نے بھی اس آلودگی سے بچنا ہے اور اپنے ساتھیوں کیلئے بھی دعا کیا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس آلودگی سے ان کو بھی بچائے