خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 525 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 525

خطبات طاہر جلد ۱۰ 525 خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۹۱ء صلب سے دنیا کا سب سے بڑا انسان پیدا ہونے والا ہے اور وہ ایسے اعلیٰ مدارج تک پہنچے گا کہ کبھی کسی انسان کے تصور میں بھی یہ نہیں آسکتا تھا کہ کوئی شخص خدا کے اتنا قریب ہو جائے اور چونکہ والدین ایسی حالت میں گزرے تھے کہ ابھی وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور نہ مسلمان ہو سکتے تھے اور انبیاء کو حکم نہیں ہے کہ وہ اپنے ان والدین کے لئے دعا کریں جن کے متعلق احتمال ہو کہ وہ مشرک ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ نے دعا نہیں کی بلکہ یہ عرض کیا ہے کہ اے خدا! ان پر بھی تو نے بہت بڑا انعام کیا ہے۔اتنا بڑا انعام کہ مجھے ان کے گھر پیدا کر دیا اور وہ شکر ادا نہیں کر سکتے۔ان کو علم نہیں ہے کہ کیا احسان تو نے ان پر کیا ہے۔مجھے توفیق عطا فرما کہ میں ان کی طرف سے تیرا شکر ادا کروں۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کی مغفرت کی دعا کرنے کا اس سے اعلیٰ طریق اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا اور ان معنوں میں احسان کا بدلہ بھی اتار گئے۔مضمون دیکھیں کس طرح اٹھایا گیا ہے کہ والدین کے احسان کو یاد کرو۔والدین کے احسان کو یاد کر کے آنحضرت فرماتے ہیں اے خدا! ان کی طرف سے مجھے شکر کی تو فیق عطا فرما۔پس جن کی طرف سے محمد رسول اللہ شکر ادا کر رہے ہوں کیسے ممکن ہے میں تو یقین نہیں کر سکتا کہ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک نہ فرمائے وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضُهُ اور شکر کی تعریف فرما دی۔ہم جو زبانی شکر ادا کرتے رہتے ہیں یہ تو کوئی شکر نہیں۔فرمایا شکر کس طرح ادا کروں فرمایا وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَہ میں ہمیشہ ایسا عمل کروں کہ جن کے نتیجہ میں تو راضی ہوتا رہے۔اس میں شکر کا فلسفہ بھی بیان ہو گیا۔ایک انسان شکر اس لئے کرتا ہے کہ کوئی شخص اس پر احسان کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ اس احسان کا بدلہ چکا سکے۔خدا کو آپ احسان کا بدلہ نہیں دے سکتے لیکن احسان کا بدلہ چکانے کی روح یہ ہے کہ جب آپ احسان اتارتے ہیں تو اگلا راضی ہوتا ہے۔جب آپ کو کوئی تحفہ دے اور آپ اس کو اس سے بڑھ کر تحفہ دیں تو تحفے تو عارضی چیزیں ہیں بعض دفعہ وہ خود استعمال بھی نہیں کرتا کسی اور کو دے دیتا ہے یا پھینک دیتا ہے یا اس کے کام کی چیز نہیں ہوتی لیکن وہ راضی ہو جاتا ہے اگر محبت سے ایک ذرہ بھی کسی کو تحفہ دیا جائے تو وہ راضی ہو جاتا ہے تو کیسا عمدہ گہرا نفسیاتی نکتہ بیان فرمایا۔فرمایا کہ میں تو تجھ پر احسان کر نہیں سکتا لیکن تجھے راضی تو کرسکتا ہوں اور احسان کا بدلہ تو اسی لئے چکایا جاتا ہے کہ کوئی راضی ہو جائے پس اب تو ایسا فیصلہ فرما کہ ایسے عمل کی تو مجھے خود توفیق عطا فرما، مجھے معلوم نہیں تو کس عمل سے راضی ہوگا جن سے بھی تو راضی ہوتا ہے وہی