خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 521
خطبات طاہر جلد ۱۰ 521 خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۹۱ء برکت سے میرا ایمان ہے کہ بہت سے حادثات سے مومن بچایا جاتا ہے اور جہاں مقدر ہو بھی وہاں بڑی شان اور طمانیت کے ساتھ خدا کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے۔پس دعا ئیں وہی کیا کریں جو انعام یافتہ لوگوں کی دعائیں ہیں مگر انعام یافتہ لوگوں کی اداؤں کے ساتھ ان کے مضامین میں ڈوب کر دعائیں کیا کریں۔یہ دعا چونکہ حضرت محمد رسول اللہ یہ کو سکھائی گئی تھی اس لئے ساتھ ہی اس کے گہرے مطالب بھی بتا دیئے گئے جن کو آپ سے بہتر اور کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ تو اور تیرے ساتھی یہ دعا ئیں تو کیا کرو گے لیکن ہمیشہ یہ یادر کھتے ہوئے کہ بالآخر خدا ہی کی طرف لوٹنا ہے۔اب ایک دعا ہے جسے ہم کہتے ہیں کہ الانسان کی دعا ہے الانسان سے مراد یہ ہے کہ انسان کامل کی دعا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اسی طرح اس دعا کو پیش فرمایا ہے اور اس سے میں سمجھتا ہوں کہ یقینا یہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی دعا ہے۔اس میں الانسان کے لفظ کے سوا اور بھی اشارے ہیں جو اس دعا کو آنحضرت ﷺ کی دعا بتاتے ہیں فرمایا :۔اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (الاحقاف :۱۴) یقیناً وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے ثم استقاموا پھر وہ استقامت اختیار کرتے ہیں۔فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ان پر کوئی خوف نہیں آتا اور کبھی وہ اپنی ضائع شدہ چیزوں پر غم نہیں کرتے۔يَحْزَنُونَ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غم کے موقعے ان کو پیش نہیں آتے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب خوف آتے ہیں تو آتے ضرور ہیں لیکن وہ ان سے ڈرتے نہیں۔مرعوب نہیں ہوتے بلکہ ہر خوف کے وقت خدا کا خوف ان پر غالب رہتا ہے اور دنیا کے خوفوں سے ان کو بچاتا ہے پھر کچھ نہ کچھ نقصان بھی پہنچتا ہے جیسے کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ بیان فرمایا گیا۔لیکن ان نقصانوں کے نتیجہ میں تم میں مبتلا نہیں ہوتے۔جاتا ہے تو کہتے ہیں ٹھیک ہے چلا گیا اور احمد یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس دور میں بھی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ایسے غلام پیدا ہوئے جن کا سب کچھ لوٹ لیا گیا لیکن وہ مسکراتے رہے۔غم میں مبتلا نہیں ہوئے۔میں نے پہلے بھی خطبہ میں ایک نوجوان کا ذکر کیا تھا جو۱۹۷۴ء کے فسادات میں مجھے ملنے آیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے ملنے آیا تھا تو میں ان دنوں وقف جدید میں کام کیا کرتا تھا وہ