خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 504 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 504

خطبات طاہر جلد ۱۰ 504 خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۹۱ء قبیلے وہ ہیں جن کے متعلق بعد میں حضرت عیسی علیہ السلام نے یہ کہا کہ میں بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی طرف جانے والا ہوں۔اصل مضمون تو دعا کا ہے مگر ضمنا ساتھ ساتھ میں آپ کو یہ باتیں بھی سمجھاتا جاتا ہوں کیونکہ ہمارے جماعتی محاورے میں اکثر گمشدہ بھیٹروں کا ذکر ملتا ہے تو وہ کیا تھیں اور کیسے بنیں۔وہ دس قبائل جو شمال کے قبائل تھے ان کی ایک الگ سلطنت قائم ہوئی اور انہی کی طرف حضرت مسیح کا اشارہ ہے۔گمشدہ ان کو اس لئے کہا گیا کہ ۶۰۰ سال کی حکومت کے بعد یعنی حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد جب بنی اسرائیل کو حکومت ملی تو اس کے پورے ۶۰۰ سال کے بعد بابلیوں نے ان پر حملہ کیا (اور آج کل کے گرد بھی اکثر بابلی علاقہ سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔اس زمانے میں بابلیوں کی ایک شاندار سلطنت تھی ) اور ان کو بالکل نہیں نہیں کر دیا۔کلیہ ملیا میٹ کر کے ان کو ملک بدر کر دیا اور یہ ساری دنیا میں بکھر گئے۔بعض روایات کے مطابق مارا تو بہت بری طرح لیکن پوری طرح نکالا نہیں بلکہ ایک سو سال بعد جبکہ جنوبی عراق کی طرف سے حملہ ہوا ہے اس وقت ان کو آخری دفعہ کلیہ نکال دیا گیا۔مگر بہر حال حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں آپ کی آمد سے کئی سو سال پہلے یہ لوگ دنیا میں بکھر چکے تھے اور ان کا وہاں کوئی وجود نہیں تھا۔حضرت موسی سے حضرت عیسی کا فاصلہ ۳۰۰ سال کا ہے۔یہ بات احمدیوں کو خصوصا یا درکھنی چاہئے۔پس حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام گمشدہ بھیڑوں کے بکھرنے کے ۶۰۰ سال کے بعد ظاہر ہوئے ہیں۔یہ اس لئے یا درکھنے کے لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی امت کے مسیح تھے۔آپ بھی پوری ۱۳ صدیوں کے بعد ظاہر ہوئے ہیں اور مماثلت مسیح کی لوگ بات کرتے ہیں تو فیتے سے آپ زمانے کو ناپ کر دیکھ لیں بعینہ اتنا زمانہ بنتا ہے۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے رسول الہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بارہ مجد دگزرے تھے اسی طرح حضرت موسی کی امت پر حضرت عیسی سے پہلے بارہ مجددین گزر چکے تھے۔بہر حال یہ قوم کا ایک حصہ اس زمانے میں بکھرا تھا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حضرت سلیمان نے خود اپنے بچوں کے لئے اور اپنی قوم کے لئے بددعا کی تھی۔اس کے متعلق قرآن کریم اشارہ کر رہا ہے اس سے پہلے آیت میں کہ اصل واقعہ کیا تھا پہلی آیت یہ ہے کہ۔وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَنَ وَالْقَيْنَا عَلَى كُرْسِهِ جَسَدًا ثُمَّ آنَابَ (ص: ۳۵) کہ ہم نے