خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 497
خطبات طاہر جلد ۱۰ 497 خطبه جمعه ۱۴ جون ۱۹۹۱ء مانگا ، صرف ہمارا کام کیا اور جا کر پھر بیٹھ گیا لیکن ضرورت مند معلوم ہوتا ہے اس پر ان کے والد جو نبی تھے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے نور یافتہ تھے انہوں نے بھیج کر بلوایا اور بلانے کے بعد ان کو کیا کیا دیا۔ ایک امان دی اور کہا کہ اب تم یا درکھو تم امن میں آچکے ہو تمہیں اب کوئی خطرہ نہیں کسی قوم سے ۔ دوسرے گھر دیا اور ان کو کہا میرے گھر میں رہو۔ تیسرے یہ کہا کہ ان دونوں بچیوں میں سے جس کو انتخاب کرتے ہو وہی تمہاری ہے۔ چوتھے اس خیال سے کہ یہ ممنون احسان نہ ہو۔ یہ نہ سمجھے کہ میں کسی کے احسان کے نیچے آ گیا ہوں کہا کہ اس میں کوئی شرمانے کی بات نہیں ۔ میرا اور تمہارا نوکری کا معاہدہ ہے۔ میں ۸ سال یا ۱۰ سال تم سے خدمت لوں گا۔ اس لئے کوئی احسان نہیں ۔ چار باتیں اس طرح حضرت موسی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے پیدا فرمائیں اور اس کے بعد پھر اسی شادی کے بعد حضرت شعیب کی صحبت میں رہنے کے نتیجہ میں بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے دل میں جو نیکی کے بیچ تھے وہ بہت ترقی کر گئے اور بعد میں واپسی کے سفر میں آپ کو نبوت بھی عطا ہو گئی ۔ پس اس لئے مجھے یہ دعا پیاری ہے کہ اس میں بہت ہی وسیع مضامین ہیں تعیین نہیں کی گئی اپنی چالاکیوں سے کہ یہ بھی دے، وہ بھی دے اور وہ بھی دے ۔ کھلا خدا پر معاملہ چھوڑ دیا گیا ہے جو کچھ تو جانتا ہے کہ ہمیں ضرورت ہے وہ ہمیں مہیا فرمادے۔ اب حضرت لوط کی ایک دعا ہے قَالَ رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ (العنکبوت : ۳۱) اے میرے خدا! اے میرے رب !! مفسد قوم کے مقابل پر میری نصرت فرما۔ اس دعا کا پس منظر معلوم کرنا بھی ضروری ہے۔ حضرت لوط کی قوم میں جو بدیاں پائی جاتی تھیں ۔ آپ سب جانتے ہیں اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بھی حضرت لوط نے نصیحت فرمائی کہ ان بدیوں سے باز آؤ ۔ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِةٍ إِلَّا أَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللهِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّدِقِينَ (العنکبوت : ۳۰) ہر دفعہ وہ تان میں یہی کہتے تھے کہ اچھا پھر جو عذاب تیرا خدا ہم پر وارد کر سکتا ہے جاؤ اپنے خدا سے وہ عذاب مانگ لاؤ ۔ یعنی اب گفت و شنید کی راہیں بند ہو چکی ہیں ۔ اب نصیحت کے ان قصوں کو چھوڑ و۔ ہم تمہاری باتیں سنتے سنتے تنگ آگئے ہیں۔ نہیں باز آئیں گے ۔ ہزار دفعہ کہا نہیں باز آئیں گے ۔ اب تم جاؤ