خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 480 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 480

خطبات طاہر جلد ۱۰ 480 خطبہ جمعہ ۷ / جون ۱۹۹۱ء عقیدے کا حصہ ہے اور اس عقیدہ کو عملی شکل دینا ہمارا کام ہے۔اب دیکھیں کہ کتنا گہرائی میں آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھا اور ہمارے لئے بیان فرمایا۔رحمن اللہ تعالیٰ کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی تنزیہی صفت ہے کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ صفت دوسری تمام صفات پر بھی حاوی ہے۔اس میں بھی بنی نوع انسان کیلئے ایک خوبصورت پیغام ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمیں ہمیشہ رحمانیت پر زور دینا چاہئے۔ہمیں ایسا طرز زندگی اپنانا ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کیلئے منفعت بخش وجود بنیں اور تمام مخلوقات سے نرمی اور حلم سے پیش آئیں۔اس طرح ہم انسانوں کو وحدانیت کی طرف لاسکیں گے۔بطور مسلمان ہمیں رحمانیت پر زور دینا چاہئے۔ہمیں ایسے رویہ پر زور دنیا چاہئے جس میں ہم دوسروں سے نرمی کا اظہار کریں اور انسانوں سے محبت کریں۔انسانیت کو وحدانیت کی طرف لانے کے یہ معنی ہیں۔یہ صرف ایک نظریہ نہیں ہے۔یہ ایک خیالی بات نہیں ہے۔اگر ہم آنحضور ﷺ کی صلى الله تعلیمات کا مزید مطالعہ کریں تو حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح آنحضور ﷺ کی تمام تعلیمات کا سرچشمہ ایک ہی ہے اور آپ نے جو بھی بیان فرمایا وہ بالآخر ایک بنیادی تعلیم پر مرکوز ہو جاتا ہے۔مثلاً ایک اور جگہ آپ نے فرمایا کہ جو رحم نہیں کرتا ، جو خدا کی مخلوق پر رحم نہیں کرتا، جواللہ تعالیٰ کے بندوں پر رحم نہیں کرتا جو اس کے تخلیق کردہ ہیں اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا۔چنانچہ وہی تعلیم جو پہلے ایک ماں کے بچوں کے حوالہ سے بیان فرمائی تھی اب انسانیت کے حوالہ سے بیان فرمائی ہے۔رحم کا لفظ دونوں میں مشترک ہے۔پس سمجھنے کی کوشش کریں۔جب آپ رحمی رشتوں کی بات کرتے ہیں تو اس میں ایک گہرا پیغام مضمر ہے۔یہ ایک محدود تعلیم نہیں ہے جس کا تعلق محض گھروں کی حد تک ہو، یا ایک ماں کی اولاد کے حسن سلوک سے ہو۔بظاہر اتناہی نظر آتا ہے مگر اگر آپ صلى الله آنحضور ﷺ کی تعلیمات کا گہرائی سے مطالعہ کریں، احادیث پر نظر ڈالیں تو آپ آنحضور ﷺ کی حکمت کی گہرائی اور وسعت سے حیران رہ جائیں گے۔کس قدر عدگی اور گہرائی سے آپ نے خدا کا عرفان حاصل کیا تھا اور کس طرح خدائی صفات کو انسانی معاملات سے جوڑا ہے۔چنانچہ آغاز میں آپ نے فرمایا کہ ماں کی طرف سے اپنے قریبی رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو پھر اسی