خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 471
خطبات طاہر جلد ۱۰ 471 خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء دعاؤں کا تذکرہ جس ملک میں بھی وہ خطبہ ہوگا وہاں سے پیش کروں گا۔آپ سے میں توقع رکھتا ہوں کہ آپ اپنی نسلوں کو خطبات با قاعدہ سنوایا کریں یا پڑھایا کریں یا سمجھایا کریں کیونکہ خلیفہ وقت کے یہ خطبات جو اس دور میں دیئے جا رہے ہیں یہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والی نئی ایجادات کے سہارے بیک وقت ساری دنیا میں پھیل رہے ہیں اور ساری دنیا کی جماعتیں ان کو براہ راست سنتی اور فائدہ اٹھاتی اور ایک قوم بن رہی ہیں اور امت واحدہ بنانے کے سامان پیدا ہور ہے ہیں اس لئے خواہ وہ نجی کے احمدی ہوں یا سرینام کے احمدی ہوں، ماریشس کے ہوں یا چین جاپان کے ہوں، روس کے ہوں یا امریکہ کے ، سب اگر خلیفہ وقت کی نصیحتوں کو براہ راست سنیں گے تو سب کی تربیت ایک رنگ میں ہوگی۔وہ سارے ایک قوم بن جائیں گے خواہ ظاہری طور پر ان کی قوموں کا فرق ہی کیوں نہ ہو۔ان کے رنگ چہروں کے لحاظ سے جلدوں کے لحاظ سے الگ الگ ہوں گے مگر دل کا ایک ہی رنگ ہوگا۔ان کے حلیے اپنے ناک نقشے کے لحاظ سے تو الگ الگ ہوں گے لیکن روح کا حلیہ ایک ہی ہوگا۔وہ ایسے روحانی وجود بنیں گے جو خدا کی نگاہ میں مقبول ٹھہریں گے کیونکہ وہ قرآن کریم کی روشنی میں تربیت پارہے ہوں گے اور قرآن کے نور سے حصہ لے رہے ہوں گے۔آپ کے ہاں سرینام میں مجھے تربیت کے لحاظ سے بہت سے خطرات دکھائی دیتے ہیں یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں افریقن مزاج جو ناچ گانے اور کھلے معاشقے اور شراب نوشی کا مزاج ہے۔کثرت کے ساتھ پھیل رہا ہے اور یہ معاشرہ غالب آ رہا ہے۔یہاں بے پردگی صرف بے پردگی نہیں بلکہ اس سے زیادہ بے حیائی میں بھی تبدیل ہو چکی ہے۔یہاں فیشن ایسے ہیں جو کھلم کھلا عورت کی ایسی نمائش کرنے والے ہیں جن سے انسان کی طبیعت پر بوجھ پڑتا ہے اور طبیعت میں کدورت پیدا ہوتی ہے۔ایسی جگہ پر رہتے ہوئے احمدی ماں باپ کو اپنی بچیوں کی فکر کرنی چاہئے۔اپنی نوجوان نسلوں کی فکر کرنی چاہئے اور ایسے آزاد معاشرے میں جب تک شروع سے ان کی صحیح تربیت نہیں کریں گے اس وقت تک ان کے اخلاق کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔کچھ دیر تک یہ آپ کے بچے رہیں گے پھر یہ معاشرے کے بچے بن جائیں گے۔پھر یہ اس قوم کے بچے ہو جائیں گے۔آپ کا سرمایہ دوسرے کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔جبکہ یہ وہ دولت ہے جو خدا نے آپ کو عطا کی ہے۔سب سے بڑی دولت اولاد کی دولت ہے۔اگر ساری عمر کی کمائی آپ ایک ہی دن گنوا بیٹھیں تو کتنا دکھ محسوس