خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 470
خطبات طاہر جلد ۱۰ 470 خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء کر آپ پر گندے حملے کئے۔آپ نے کیونکہ غیروں کو عبادت کا حق دے دیا اس لئے یہ کہنے لگ گئے کہ یہ مشرک تھا اور یہ خود غیر قوموں کی عبادت کیا کرتا تھا۔وجہ یہ بیان کی کہ بے شمار غیر قوموں کی عورتوں سے اس نے بیاہ کئے اور بیان یہ کیا جاتا ہے کہ ۷۰۰ بیویاں کیں اور وہ بھی کافی نہ سمجھیں ،اس کے علاوہ ۳۰۰ لونڈیاں بھی گھر میں رکھ لیں تو گویا ایک ہزار بیویاں حضرت سلیمان کی بیان کی جارہی ہیں حالانکہ یہ ایک ایسی جاہلانہ بات ہے جسے انسان قبول ہی نہیں کر سکتا۔نہایت نا پاک قصے بنا بنا کر ان کی طرف منسوب کئے اور پھر یہ کہا کہ یہ ساری بیویاں غیر قوموں کی تھیں یا بھاری اکثریت ان کی تھی اس لئے ان بیویوں کو خوش کرنے کے لئے ان کے خداؤں کی عبادت کرنے لگ گیا اور ان کے حضور سجدے کرنے لگ گیا اور ان کے معبد بنانے لگ گیا۔پس قو میں جب وقت کے نبی کی مخالفت کرتی ہیں تو اس طرح ان پر ناپاک حملے کرتی ہیں۔ہم بھی ایک ایسے زمانے سے گزررہے ہیں جہاں ہمارے سامنے ثبوت کی تاریخ بن رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آقا محمد رسول اللہ ﷺ کے تابع فرمان نبی ہیں۔آزاد نبی نہیں ہیں مگر امتی نبی ضرور ہیں۔آپ تحریرات پڑھ کر دیکھیں کہیں بھی آپ نے امتی نبوت کا انکار نہیں کیا۔امام مہدی ہونا اور امتی نبی ہونا ایک ہی چیز کے دونام ہیں۔پس آپ پر بھی اسی طرح ناپاک حملے کئے جارہے ہیں۔آپ غیر احمدی مخالفین کا لڑیچر پڑھ کر دیکھ لیں آپ حیران رہ جائیں گے کہ کیسے گندے ناپاک حملے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اور آپ کے خلفاء پر آپ کے صحابہ پر یہ لوگ کرتے چلے جارہے ہیں گویا ہم اس تاریخ کو اپنی آنکھوں کے سامنے بنتا دیکھ رہے ہیں جس تاریخ کا ذکر قرآن کریم میں محفوظ ہے اور جس کے تفصیلی تذکرے ہمیں بائبل میں ملتے ہیں۔پس حضرت سلیمان کی اس ایک دعا پر ہی آپ غور کر کے دیکھ لیں آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ موحد ہی نہیں بلکہ ایک بہت پائے کے عارف باللہ موحد تھے۔آپ کو شرک سے دور کا بھی علاقہ نہیں تھا۔آپ احسان فراموش نہیں تھے بلکہ احسان کو بے انتہا محسوس کرنے والے تھے اور خود لوگوں کے محسن تھے اور اس کے باوجود بجز اتنا تھا کہ سمجھتے تھے کہ میں احسان کا حق ادا نہیں کر سکا اور اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ پوچھتے تھے کہ مجھے شکر یہ ادا کرنے کی راہیں سکھلا۔پس آج کے اس خطبہ میں چونکہ دیر ہو چکی ہے میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور آئندہ انشاء اللہ باقی