خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 458
خطبات طاہر جلد ۱۰ 458 خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء یہ سفر جو میں نے اللہ اختیار کیا اس سے پہلے میں نے بھی وہ دعائیں کیں جو سفر کے موقعہ کے مناسب حال قرآن کریم میں مذکور ہیں۔آج میں آپ سے سرینام کے دارالخلافہ پیرامار یبو (Paramarib) میں مخاطب ہوں اور بعض باتیں آپ کو دوبارہ سمجھانی پڑ رہی ہیں جو اس سے پہلے میں بیان کر چکا ہوں کیونکہ آپ ایک ایسی جماعت ہیں جن کو پوری طرح اردو نہیں آتی اگر چہ آہستہ سمجھا کر بات کروں تو اردو سمجھتے ہیں۔بعض آپ میں سے اچھی بھی جانتے ہیں۔بعض ذرا کمزور جانتے ہیں اس لئے میں یہ وضاحت کر رہا ہوں کہ یہ خطبہ جب باہر جائے گا اور دنیا کی اکثر جماعتوں میں پہنچتا ہے تو وہ متعجب ہوں گے کہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔میں کیوں بار بار وہ باتیں سمجھا رہا ہوں جو وہ سمجھ چکے ہیں۔تو ان کو علم ہونا چاہئے کہ میں اس وقت یہ خطبہ سرینام کے دارالخلافہ پیرامار بیو(Paramarib) سے دے رہا ہوں اور وہاں کی جماعت اس وقت میرے سامنے بیٹھی ہے ان میں بچے بھی ہیں ، بڑے بھی ہیں اور پردے کے پیچھے خواتین بھی ہیں اور ان کو ان کے فہم اور طاقت کے مطابق بات سمجھا کر آگے چلنا ہوگا تو پس منظر میں نے دوبارہ بتا دیا کہ ہم روزانہ ہر نماز میں انعام یافتہ لوگوں کا رستہ سورہ فاتحہ کی ہر دعا میں مانگتے ہیں اور دن رات خدا سے یہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں انعام یافتہ لوگوں کا رستہ دکھا ، ان کا رستہ دکھا جن پر تو نے انعام فرمایا۔ان کے رستے سے بچا جن لوگوں کے رستے پر تیرا غضب نازل ہوا تو پھر ہمیں انعام یافتہ لوگوں کی ادائیں لازماً اختیار کرنی ہوں گی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو دعائیں وہ کیا کرتے تھے ایسی دعائیں جو خدا نے قبول فرمالیں۔ایسی دعا ئیں جو خدا تعالیٰ کو پیاری لگیں اور اتنی پیاری لگیں کہ اپنے سب سے پیارے رسول حضرت محمد رسول اللہ اللہ کو وہ دعا ئیں الہاما بتا ئیں اور وہ دعائیں بھی قرآن کریم میں محفوظ کیں جو خود حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو پہلی بار سکھائی گئیں اور اس سے پہلے دوسرے انبیاء کو بعض ایسی دعا ئیں تھیں جو نہیں سکھائی گئیں تو یہ سارا ہمارا خزانہ ہے اس خزانے سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہئے۔اب میں حضرت سلیمان کی ایک دعا آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔یہ دعا سورۃ النمل آیت ۲۰ سے لی گئی ہے۔آپ عرض کرتے ہیں: