خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 454 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 454

خطبات طاہر جلد ۱۰ 454 خطبہ جمعہ ۲۴ مئی ۱۹۹۱ء اور تمیز اس طرح کہ پاکوں کو بچالے اور ناپاکوں کو ہلاک کر دے۔پس یہاں بدنی نجات کی دعا نہیں تھی۔روحانی نجات کی دعا تھی بدنی نجات کو اس کا نشان بنا کر مانگا گیا تھا۔اب دعا غور سے سنیں۔رَبِّ إِنَّ قَوْمِی كَذَّبُونِ حضرت نوح نے عرض کیا اے مرے رب ! میری قوم مجھے جھلا بیٹھی ہے۔یعنی اب اس سے کوئی امید باقی نہیں رہی۔فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ اب میرے اور ان کے درمیان فتحا نمایاں فرق کر کے دکھا دے کہ دنیا دیکھ لے کہ کون پاک تھا اور کون مجھے پیارا تھا اور کون ناپاک اور کون تیری نظر میں مغضوب تھا اور نشان کیا ہو اس فتح کا وہ یہ ہے کہ وَنَجِّنِي وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ۔مجھے اور وہ لوگ جو مجھ پر ایمان لائے ہیں ان سب کو اس ہلاکت سے بچالے جو اس قوم کا مقدر ہو چکی ہے۔فَانْجَيْنَهُ وَمَنْ مَّعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ (الشعراء:۱۲۰) اور ہم نے اسے اور جو کچھ اس کے ساتھ تھا۔ایک بھری ہوئی کشتی میں نجات دی۔اس سے پہلے ایک بھری ہوئی کشتی کا ذکر گزر چکا ہے جس میں سوائے خدا کے ایک نبی کے ساری قوم کے لئے جگہ تھی وہ اس بھری کشتی میں نہ صرف یہ کہ خود نجات نہیں پاسکا بلکہ وہ باقی قوم کے لئے بھی خطرہ بن گیا کہ اگر یہ ہوا تو کشتی ڈوبے گی اگر یہ نکلے گا تو کشتی بچے گی۔تو وقتی طور پر جب خدا کی رحمت کا سایہ آزمائش کے لئے بھی اٹھتا ہے تو کتنا ہولناک منظر پیدا ہو جاتا ہے۔یہاں اب بالکل برعکس منظر ہے۔فرمایا، جاشوق سے جتنے مومن ہیں وہ بھی کشتی میں بھر لے اور ہر قسم کے ضرورت کے جانوروں کے نمونے بھی بھر لے۔ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ بھری ہوئی کشتی میں تمہیں ان طوفان خیز موجوں سے نجات بخشیں گے اور فرمایا کہ ہم نے ایسا ہی کیا ثُمَّ اغْرَقْنَابَعْدُ الْبَقِيْنَ (الشعراء:۱۲۱) پس اس کے بعد ہم نے باقی سب کو غرق فرما دیا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ (الشعراء:۱۲۲) اس میں ایک بہت بڑا نشان ہے لیکن افسوس کہ اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک دعا ہے جس کے ساتھ ایک گہرا مضمون وابستہ ہے لیکن وہ بعد میں بیان کروں گا۔اب وقت نہیں ہے۔پہلی دعا جو ہے اس کا مختصر ذکر میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔(بعد میں جو ایک ایسی دعا ہے جس کے ساتھ قرآن کریم کی صداقت کا ایک نشان وابستہ ہے اس کا ذکر بعد میں تفصیل کے ساتھ کروں گا۔اس دعا کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے لیکن دو تین دعا ئیں اکٹھی ہیں جن کا انشاء اللہ آئندہ جمعہ میں ذکر کیا جائے گا) رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ