خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 453
خطبات طاہر جلد ۱۰ 453 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۹۱ء اس کے لئے بدنی نجات خود بخود عطا ہو جاتی ہے۔پس حضرت لوظ اگر صرف بدنی نجات مانگتے تو اس کے اندر روحانی نجات شامل نہیں تھی مگر جب روحانی نجات مانگی تو اس میں بدنی نجات شامل ہوگئی پس وہ لوگ جو مثلاً امریکہ میں رہتے ہیں، مجھے ایک طالب علم کی والدہ کا خط ملا۔انہوں نے یہ لکھا کہ میرے دو بچے ہیں ان میں سے ایک نے جو فلاں یونیورسٹی میں امریکہ میں پڑھتا ہے۔مجھے لکھا ہے کہ یہاں طالب علموں کی بھاری اکثریت نشہ کرتی ہے اور یو نیورسٹی میں یہ فیشن ہے اور اس کے علاوہ دوسری بدیوں کا ذکر تھا کہ یہ بھی کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہم میں رہنے کا حق نہیں رکھتے۔ہم سے الگ ایک مخلوق ہے اور پوری کوشش کی جاتی ہے کہ وہ نتیں ان کو بھی ڈال دیں۔تو اس نے اپنی والدہ کو دعا کے لئے لکھا تھا کہ دعا کے ذریعے میری مددکریں ورنہ یہ بڑا مشکل کام ہے۔پس جو طالب علم امریکہ جاتے ہیں میں ان کو ہمیشہ یہی نصیحت کرتا ہوں کہ وہاں تم کوشش تو ضرور کرو گے بچنے کی لیکن یہ دعا ضرور کرتے رہنا۔چنانچہ والدہ نے جب مجھے دعا کے لئے لکھا تو اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ میرے جو خطرات تھے وہ درست تھے۔یورپ میں بھی خرابیاں ہیں لیکن جتنی بدیاں اس وقت امریکن یو نیورسٹیز میں اخلاقی لحاظ سے پھیلی ہوئی ہیں میرا خیال ہے دنیا کے پردے پر اس کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔پاکستان میں کثرت سے پھیل رہی ہیں نشہ بہت عام ہو رہا ہے تو وہاں سے جو لوگ ہجرت کرتے ہیں۔ہجرت سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قوم کی بداعمالیوں سے نجات کی دعا مانگا کریں اور اس کے لئے حضرت لوط کی یہ دعا ہمارے لئے ایک نمونہ ہے رَبِّ نَجِنِى وَاَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ اے مرے رب! مجھے بھی اور میرے اہل کو بھی ہر اس بدی سے نجات بخش جو یہ کرتے ہیں۔حضر نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک دعا ہے۔قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَّبُونِ (الشعراء: ۱۱۸) اے مرے اللہ !میری قوم مجھے بھلا بیٹھی ہے فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ (اشعرا : ۱۹) اب میرے اوران کے درمیان فرق کر کے دکھادے و نَجِنِی وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اور مجھے اور مومنوں کو نجات بخش اب یہ بظاہر محض بدن کی نجات کا ذکر چل رہا ہے لیکن اس دعا کو آپ غور سے پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ مضمون اس کی نسبت زیادہ گہرا ہے جو دکھائی دیتا ہے آپ نے پہلے یہ دعا کی ہے کہ قوم مجھے جھلا بیٹھی ہے۔اب ہمارے درمیان تمیز کر دے کہ کون پاک ہے کون ناپاک ہے