خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 452
خطبات طاہر جلد ۱۰ 452 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۹۱ء ہیں۔خدا کا ایلچی ہیں۔یہاں جمع کا صیغہ استعمال نہیں فرمایا بلکہ واحد کا صیغہ استعمال فرمایا ہے۔رَسُولُ نہیں فرمایا۔بلکہ رَسُولُ رَبِّ الْعَلَمِینَ یعنی ان دو میں کوئی فرق نہیں تھا کہ دوا لگ الگ رسول ہوں۔ایک ہی مشن پر ان دونوں کو فائز فرمایا گیا تھا اور اپنی مجموعی حیثیت میں وہ ایک ہی رسول کے مقام پر فائز تھے۔اب سوال یہ ہے کہ یہ دعا ہم عام حالات میں کیسے مانگیں گے۔کسی کو خدا ایسے مقام پر فائز کرے یا ایسے حالات ہوں تو پھر دعا اس سے مانگی جائے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ان دعاؤں کے اندر بعض مخفی التجا کی کیفیات ہیں جو ایک عاجز بندے کے کام آجاتی ہیں جب وہ موسیٰ کے رنگ میں ڈوب کر یا کسی اور گزشتہ نبی کی دعا کو یاد کرتے ہوئے اس کے رنگ میں ڈوب کر یہ دعائیں کرتا ہے۔اپنے بجز اور بے بسی کی کیفیت کے لئے ایسی حالت میں جب کسی سے کوئی گناہ کسی کا سرزد ہو گیا ہو، کسی سے خوف کھاتا ہو ، تو حضرت موسیٰ کی یہ دعا حضرت موسیٰ کے رنگ میں ڈوب کر اگر کی جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ انسان کی دوسری ضروریات میں بھی کام آسکتی ہے۔حضرت لوط کی ایک دعا بیان فرمائی گئی ہے سورۃ الشعراء میں ( یہ جو دعا تھی یہ بھی سورۃ الشعراء آیات ۱۱ تا ۸ تھی ) اب سورۃ الشعراء کی آیت ۱۷۰ میں حضرت لوط کی یہ دعا بیان ہوئی ہے۔رَبِّ نَجْنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ ) (الشعراء:۱۷۰)اے میرے رب ! مجھے اور میرے اہل کو نجات بخش ان باتوں سے جو میری قوم کرتی ہے۔یہاں جسمانی نجات کی دعا نہیں ہے جو اس کے ذیل میں آئی تھی۔دراصل یہ ایک ایسے گناہ سے نجات کی دعا ہے جو ساری قوم میں وبا کی طرح پھیل چکا تھا اور ساری قوم میں سرایت کر گیا تھا۔ایسے موقعہ پر دعا کے بغیر انسان صحیح معنوں میں ایسی قومی بدیوں سے بچ نہیں سکتا۔پس جب مثلاً انگلستان میں رہنے والے یہ دیکھتے ہیں کہ بعض بدیاں وہاں امریکہ میں بسنے والے دیکھتے ہیں کہ بعض بدیاں پھیلی ہوئی ہیں تو ان کے لئے بھی یہ دعا کرنی چاہئے۔ورنہ یہ بدیاں اس طرح فضا میں سرایت کر چکی ہوتی ہیں کہ ہر سانس میں انسان ان کو لے رہا ہوتا ہے۔ٹیلیویژن آن کرے، ریڈیو آن کرے، بازاروں میں چلے، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان بدیوں سے کلیہ بچ کر نکل سکے۔پس یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ نجات صرف ظاہری نجات کی دعا نہیں ہوتی بلکہ بدیوں سے روحانی نجات بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے اور جو روحانی نجات حاصل کرتا ہے