خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 445 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 445

خطبات طاہر جلد ۱۰ 445 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۹۱ء ہی ، مردوں پر بھی سبقت لے گئی۔پس قرآن کریم کی دعاؤں پر جب آپ غور کیا کریں تو اس کے پس منظر کو غور سے پڑھا کریں۔بعد میں آنے والے مضمون کو غور سے دیکھا کریں تو آپ کی دعاؤں میں معت پیدا ہوگی ، آپ دعاؤں میں گہرائی پیدا ہوگی۔الفاظ وہی ہوں گے لیکن ان کے معانی پھیلتے چلے جائیں گے اور ایک دفعہ کا مضمون کافی نہیں ہوگا بلکہ جتنا آپ غور کریں گے یہ میرا تجربہ ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو اور مضامین انہی دعاؤں میں ملتے چلے جائیں گے۔چنانچہ فرمایا فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتَا حَسَنا" پس اللہ تعالیٰ نے اس کے رب نے اس بچی کو قبول فرمالیا بِقَبُولِ حَسَنٍ بہت حسین قبولیت تھی۔وَأَنْبَتَهَا نَبَاتَا حَسَنًا اور اس کی پرورش کی اور اس کو بڑھایا بہت ہی خوبصورت اور حسین رنگ میں۔پس واقفین نو پیش کرنے والوں کے لئے یہ نمونہ ہے کہ وہ بھی اپنے واقفین نو بچوں کی اس رنگ میں تربیت کریں۔کہ عام بچوں سے مختلف دکھائی دیں۔بہت ہی حسین اور دلکش انداز میں ان کو پالا پوسا جائے اور پروان چڑھایا جائے لیکن دعا کے نتیجہ میں یہ توفیق مل سکتی ہے۔ایک دعا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانیوالے ساحروں کی دعا ہے جو رہ گئی تھی۔یہ سورۃ الاعراف کی آیت ۱۲۷ ہے۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ اے ہمارے رب ہمیں صبر عطا فرما وَتَوَفَّنَا مُسْلِمینَ اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دینا۔پہلے یہ مضمون دوسرے رنگ میں گزر چکا ہے مراد یہ ہے کہ چونکہ وہ فرعون کو مخاطب ہو کر چیلنج دے بیٹھے تھے کہ جو عذاب تو دے سکتا ہے ہم کو دے۔جو ہم سے کرنا چاہتا ہے کر گزرلیکن ہم کسی قیمت پر بھی مرتد نہیں ہوں گے اور جو ایمان اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے اس سے بہر حالت میں چمٹے رہیں گے۔یدان کا چیلنج تھا فرعون کو لیکن معاً ان کا ذہن اس طرف گیا کہ یہ خدا کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔خواہش ہے، ارادے ہیں لیکن انسان کمزور ہے اس لئے اس معاملہ میں لازماً ہمیں خدا سے طاقت مانگنی چاہئے پس ہر وہ مومن جو نیک ارادے باندھتا ہے اور وقتی طور پر خلوص سے باندھتا ہے، جانتا ہے کہ وہ تقویٰ کے ساتھ یہ فیصلے کر رہا ہے اس کے لئے بھی نصیحت ہے کہ دعا سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے ورنہ نیک باتوں کے نیک ارادے جو خلوص کے ساتھ بھی کئے گئے ہوں ضروری نہیں کہ انسان کو ان کے پورا کرنے کی توفیق