خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 441 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 441

خطبات طاہر جلد ۱۰ 441 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۹۱ء ابتلاؤں میں بسا اوقات اپنا سب کچھ کھو دیا۔جو کچھ تھا ان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔گھر لوٹ لئے گئے۔دکانیں جلادی گئیں اور جو کچھ سرمایہ تھا وہ لوگ جنہوں نے قرضے دینے تھے لے بھاگے۔تجارتوں میں اکثر ایسے قرضے ہوتے ہیں جن کے آنے جانے کے ساتھ تجارت چلتی ہے اور انہوں نے صبر کانمونہ دکھایا اور یہی کہا کہ اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اور اس کے نتیجہ میں ایک ایک کی جگہ دس دس دکانیں بنیں۔جہاں چند دکانیں احمدیوں کی جلائی گئی تھیں ، وہاں بازار احمد یوں کے ہو گئے۔ایک مکان تھا تو پھر مختلف بچوں کے لئے الگ الگ مکان بنانے کی توفیق ملی۔پس یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس کے پیچھے جماعت احمدیہ کی سوسالہ تاریخ آج کے زمانہ میں گواہ کھڑی ہے اور اس سے پہلے امت محمدیہ کی تمام تاریخ مختلف ممالک میں اس بات پر گواہ ہے کہ یہ ایک بہت ہی مؤثر دعا ہے۔پھر بجز سکھاتی ہے اور بظاہر کچھ بھی نہ ملے تو ایک عظیم الشان چیز ملنے کی بشارت دیتی ہے۔وہ لوگ جو بجز کے ساتھ دنیا سے تعلق رکھنے کی بجائے خدا سے تعلق رکھتے ہیں دنیا سے راضی ہونے کی بجائے خدا سے راضی رہتے ہیں ان کے لئے اس میں یہ خوشخبری ہے کہ تم خدا کی کھوئی ہوئی چیز خدا کومل جاؤ گے۔سب سے بڑی دولت جو دنیا میں ممکن ہے اور سوچی جاسکتی ہے یا دنیا میں کیا دنیا ما فیہا اور آخرت ، ہر لحاظ سے انسان کے ادراک میں جو چیز سب سے زیادہ قیمتی آسکتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔تو فرمایا تم تھوڑا سا کھونے کے نتیجہ میں کیوں غم کر رہے ہو۔تم اپنے رب کو پالو گے۔اور یہ جو مضمون ہے اس میں مومنوں کے لئے خصوصیت سے اس لئے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف اگر چہ ہر چیز لوٹے گی لیکن قرآن کریم فرق کر کے دکھاتا ہے۔قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وہ لوگ جو خدا کے بندے ہیں جن کی روح خدا کی طرف ہمیشہ لوٹتی رہتی ہے، جن کا تصور خدا کی طرف لوٹنا رہتا ہے اصل رجوع ان کا ہوگا اور جو دنیا کے بندے ہیں۔وہ خدا کی طرف نہیں لوٹائے جائیں گے۔یہ مضمون قرآن کریم کی ایک الگ آیت میں واضح طور پر بیان فرما دیا گیا۔بظاہران دو باتوں میں تضاد ہے بظاہر ایک آیت یہ کہتی ہے کہ ہر چیز کا ئنات کی بالآخر خدا کی طرف لوٹائی جائے گی اور قرآن کریم کی بعض دوسری جگہوں پر اس مضمون کو کھول کر بیان فرماتا ہے کہ بالآخر ساری کائنات کی صف لپیٹ دی جائے گی اور کچھ بھی نہیں رہے گا۔جو کچھ تھا وہ پھر عدم ہو جائے گا صرف خدا کی ذات باقی رہے گی۔تو زندگی ہو یا بے جان چیزیں ، ہر چیز اس کی طرف لوٹنے والی ہے۔