خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 440
خطبات طاہر جلد ۱۰ 440 خطبه جمعه ۲۴ مئی ۱۹۹۱ء پورے ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم نے یہ دعا نقصانات کے ذکر ہی میں بیان فرمائی اور فرمایا کہ میرے مومن بندے ایسے ہیں جب ان کو کئی قسم کے مالی ، جانی، پھلوں وغیرہ کے نقصانات پہنچتے ہیں۔مصیبتوں میں وہ آزمائے جاتے ہیں تو ان کا یہ قول ہوتا ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانیوالے ہیں۔یہ ایک بہت ہی مؤثر دعا ہے۔میں نے ایک دفعہ خطبہ میں اس کا ذکر بھی کیا تھا کہ بعض بچوں پر میں نے اس کو آزما کر دیکھا اور انہوں نے جب توجہ سے بہت چھوٹی عمر میں بطور دعا اس کو پڑھنا شروع کیا تو بسا اوقات ان کی گمشدہ چیزیں حیرت انگیز طور پر ملتی تھیں اور ان تجارب کا بہت گہرا نقش ان کے دل و دماغ پر جم گیا اور ہمیشہ کے لئے ان کی دعا کی طرف توجہ ہوگئی۔لیکن یہ ایک ایسی دعا ہے جس میں کوئی چیز ملے یا نہ ملے دعا اپنی ظاہری صورت میں مقبول ہو یا نہ ہو دعا وہ فائدہ پہنچا جاتی ہے جو نقصان کو پورا کرنے والا فائدہ ہے بلکہ اس سے بڑھ کر اس میں توجہ یہ دلائی گئی ہے کہ جو کچھ ہم نے کھویا ہے درحقیقت یہ ہمارا نہیں تھا تقدیر کا تھا۔ہر چیز جو کائنات میں پیدا ہوئی ہے وہ خدا ہی نے پیدا فرمائی ہے۔اصل میں ملکیت اس کی ہے یہاں تک کہ ہم بھی تو اس کے ہیں۔وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اور ہم نے بالآخر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔پس تھوڑی سی چیز کے گم جانے کا کیا غم کرنا۔اس عارضی نقصان پر رونے دھونے کا کیا فائدہ۔ہم بھی تو ہمیشہ یہاں نہیں رہیں گے۔یہ دوسرا مضمون شروع ہو جاتا ہے اور یہ غم بھی عارضی ہے کیونکہ بالآخر ہر چیز خدا ہی کی طرف لوٹائی جائے گی اور ہم اس دار فانی سے عالم بقا کی طرف واپس لوٹ آئیں گے۔یہ دعا بہت ہی گہری ہے اور دعا کا رنگ اس میں اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ خدا مالک ہے اور چونکہ وہ مالک ہے اس لئے ہر چیز بالآخر اس کی طرف لوٹے گی۔تو ایک قسم کی خاموش دعا کا رنگ یہ بنتا ہے کہ اے خدا! تو نے ہمیں عارضی ملکیت دی تھی تو جو مستقل مالک ہے۔سب چیزیں تیری طرف لوٹتی ہیں۔تو ہماری عارضی ملکیت بھی ہماری طرف لوٹا دے۔یہ ایک خاموش دعا کا وہ رنگ ہے جو اس مضمون میں داخل ہے۔چنانچہ اگر آپ اس کو سمجھ کر اور غور سے اور عاجزی سے یہ دعا کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بسا اوقات اس دعا کے نتیجہ میں حیرت انگیز طور پر نہ صرف نقصان پورے ہو جاتے ہیں بلکہ ان سے بہت بڑھ کر عطا کیا جاتا ہے۔وہ جماعت کے مخلصین جنہوں نے مختلف