خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 439
خطبات طاہر جلد ۱۰ 439 خطبه جمعه ۲۴ مئی ۱۹۹۱ء إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ کا حقیقی مفہوم حضرت مریم ، حضرت نوح، حضرت لوط ، حضرت موسیٰ اور حضرت سلیمان علیہم السلام کی دعاؤں کا تفصیلی ذکر ( خطبه جمعه فرموده ۲۴ مئی ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔انعام یافتہ خدا کے پاک بندوں کی وہ دعائیں جو قرآن کریم میں محفوظ ہیں ان کے ذکر میں کچھ ایسی دعائیں نظر سے رہ گئی تھیں جو اس سے پہلے گزر چکی ہیں جہاں تک میں پہنچا ہوں ،اور اب جب دوبارہ تحقیق کرائی گئی کہ کہیں کوئی ایسی دعا نظر سے رہ تو نہیں گئی تو چند دعائیں سامنے آئی ہیں اس لئے اب میں وہ دعائیں پہلے آپ کے سامنے پیش کروں گا اس کے بعد جہاں سلسلہ مضمون چھوڑا تھا وہاں سے شروع کروں گا۔سب سے پہلی دعا جو روز مرہ عام طور پر مسلمانوں کے استعمال میں رہتی ہے خواہ وہ اس کا مطلب سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہوں وہ اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ (البقرہ:۱۵۷) ہے غالباً یہ اس لئے نظر سے رہ گئی تھی کہ اس میں بظاہر دعا کا رنگ نہیں ہے۔ترجمہ اس کا یہ ہے کہ ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانیوالے ہیں۔مگر جو موقعہ ہے جہاں یہ استعمال ہوتی ہے وہ نقصان کا موقعہ ہے اور اس دعا کے نتیجہ میں بسا اوقات انسان کی گمشدہ چیزیں مل جاتی ہیں اور بہت سے نقصان