خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 430 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 430

خطبات طاہر جلد ۱۰ 430 خطبہ جمعہ ۷ ارمئی ۱۹۹۱ء رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا اے ہمارے رب! ہم تو ایمان لے آئے ہیں اس لئے ہم سے بخشش کا سلوک فرما وَارْحَمْنَا اور ہم پر رحم فرما۔وَاَنْتَ خَيْرُ الرحِمِينَ (المومنون : ۱۱۰) اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔اس کے معاً بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا (المومنون : 1) وہ یہ دعائیں کرتے تھے۔یہ التجائیں کرتے تھے اور اس کے باوجود تم انہیں مذاق کا نشانہ بنا لیتے تھے حَتَّی اَنسَوْكُمْ ذِكْرِى (المومنون : 11) یہاں تک کہ تم میرے ذکر کو بھلا بیٹھے وَكُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ اور تم ان سے مسلسل مذاق کرتے رہے۔اِنِّى جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَابِزُونَ (المومنون :۱۱۲) که آج کے دن جو جزاء سزا کا دن ہے میں اپنے ان مومن بندوں کو جو تمہارے ظلموں کے مقابل پر صبر کیا کرتے تھے جزاء کی خوشخبری دیتا ہوں اور یہ بتاتا ہوں کہ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَابِزُونَ کہ یہی وہ لوگ ہیں جو نجات یافتہ ہیں اور نیک انجام کو پہنچنے والے ہیں۔پھر سورۃ المومنون کی 119 ویں آیت میں ایک اور دعا آنحضور ﷺ کو سکھائی گئی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَقُل رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَيْرُ الرَّحِمِينَ (المومنون : ۱۱۹) کہ اے میرے رب! تو مجھ سے مغفرت کا سلوک فرما، وارحم اور رحم کا سلوک فرما۔وَ أَنْتَ خَيْرُ الرَّحِمِينَ تجھ سے بڑھ کر اور کوئی رحم کرنے والا نہیں۔سورۃ الفرقان آیات ۶۶-۶۷ میں اللہ تعالیٰ عِبَادُ الرَّحْمن کی دعا بیان فرماتا ہے عِبَادُ الرَّحْمٰن کا تذکرہ چل رہا ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ وہ بندے ہیں جو زمین پر نرمی اور عاجزی سے چلتے ہیں۔جب جاہل ان کو مخاطب ہوتے ہیں اور ان پر طعن و تشنیع کرتے ہیں تو وہ جواباً یہ کہتے ہیں وإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلمًا (الفرقان :۶۴) اور پھر اپنے رب کے حضور راتیں سجدوں اور قیام میں گزار دیتے ہیں۔ان کے متعلق فرمایا کہ وہ کیا دعائیں کرتے ہیں۔وَالَّذِيْنَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامَانَ إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا ) (الفرقان: ۲۶، ۶۷) وه یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم سے جہنم کا عذاب ٹال دے اس وجہ سے وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک طرف دشمن کا عذاب ہے اور اس کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔فرعون کے وقت میں جن ساحروں کو اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔انہوں نے بھی یہی ذکر کیا تھا کہ ہم تو خدا سے زیادہ