خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 418 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 418

خطبات طاہر جلد ۱۰ 418 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء آجائے اور رضا والا ابتلاء ہونا راضگی والا ابتلاء نہ ہو راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو اس روح کے ساتھ آپ دعا ئیں کیا کریں تو آپ نے سب کچھ پالیا وہی لوگ دنیا میں کامیاب ہوں گے جو مالک کی ہر ادا سے راضی ہوں جن کو خیرات سے پیار نہ ہو خیرات دینے والے ہاتھ سے پیار ہو۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور نے فرمایا:۔ابھی نماز جمعہ ہونے کے بعد نماز جنازہ ہوگی۔جرمنی کی یہ خاتون امتہ العزیز جو فیصل آباد کے نائب امیر چوہدری غلام دستگیر صاحب کی بہو تھیں۔بہت ہی نیک خاتون سلسلے سے بے حد محبت اور خلوص رکھنے والی اور خلافت احمدیہ سے تو ان کو ایسا عشق تھا کہ ایک مثالی عشق تھا بلکہ حیرت ہوتی تھی کہ کس طرح ان کو محبت بھی ہے، یقین اور اعتماد بھی ہے۔کئی دفعہ پہلے فیصل آباد میں اس حد تک بیمار ہو گئیں کہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ خلیفہ وقت دعا کریں گے تو میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اخلاص کو قبول کیا اور حیرت انگیز طریق پر شفایاب ہوئیں۔پھر خواہش کے مطابق لنڈن بھی آئیں۔مجھ سے ملیں بعد میں واپس جا کر پھر دوبارہ جرمنی آئیں۔اب چند مہینے پہلے سے ان کی حالت بہت زیادہ خراب ہوئی اور ایک اور بیماری ہوئی یعنی لنگر (Lungs) کا کینسر تھا تو اس وقت بھی ان کے ایمان میں کوئی لغزش نہیں آئی۔تو کل میں کوئی فرق نہیں پڑا اور ہسپتال میں ایک دفعہ لاعلاج کر کے گویا پھینک دیا گیا تھا تو ان کی طرف سے پھر مجھے پیغام ملا۔پھر خدا تعالیٰ نے دعا کی توفیق دی اور اس حالت سے نکل کر پھر خدا کے فضل سے باہر آگئیں لیکن تقدیر جو ہے وہ تو لازماً آنی ہے یعنی موت تو ٹل ہی نہیں سکتی۔یہ وہم تو دلوں سے نکل جانا چاہئے کہ کوئی شخص تقدیر سے متمنی ہوسکتا ہے۔دعا سے خدا تعالیٰ اپنے پیار اور محبت کے اظہار کے لئے تھوڑی سی مہلتیں بڑھادیا کرتا ہے۔آخر ان کا وقت آنا ہی تھا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان کی یہ شدید خواہش تھی کہ میں ان کا جنازہ پڑھوں۔چنانچہ جب ہم یہاں جرمنی آ رہے تھے تو میری اہلیہ نے مجھے یاد کرایا۔انہوں نے کہا کہ دیکھو، اس کی یہ جو تمنا تھی خدا نے یہ بھی پوری کر دی اور اس وقت تک نہیں مری جب تک آپ کے جرمنی آنے کا انتظام نہیں ہوا۔ورنہ جنازہ غائب ہی ہوسکتا تھا۔سامنے