خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 417
خطبات طاہر جلد ۱۰ 417 خطبہ جمعہ ۰ ارمئی ۱۹۹۱ء کاموں میں سبقت لے جایا کرتے تھے۔بنی نوع انسان کی خدمت کیا کرتے تھے جو بھی بھلائی کا موقع آتا تھا اس سے چوکتے نہیں تھے بلکہ آگے بڑھ بڑھ کر نیک کاموں میں حصہ لیا کرتے تھے۔وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا اور ہمیشہ مجھے یاد کیا کرتے تھے اور میرے سے دعا ئیں کیا کرتے تھے، رغبت رکھتے ہوئے بھی اور خوف رکھتے ہوئے بھی بعض دفعہ میری رضا کی تمنا میں اور لالچ میں کہ خدا ہم سے راضی ہو اور بعض دفعہ اس خوف میں دعا کیا کرتے تھے کہ کہیں کوئی ایسی بات نہ ہو جائے کہ خدا ناراض ہو جائے اور پھر فرمایا وَ كَانُوا لَنَا خَشِعِينَ اور وہ ہمیشہ میرے ساتھ عاجزی کے ساتھ پیش آیا کرتے تھے۔بہت ہی خشوع وخضوع کرنے والے تھے۔پس جن کا یہ دستور ہوان کی دعائیں جو غیر معمولی حالات میں قبول ہوئی ہیں تو اس کا یہ پس منظر ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت زکریا کے حق میں خدا تعالیٰ نے ایسا اعجازی نشان دکھا دیا، ہم دعا مانگتے ہیں ، ہماری بوڑھی بیوی تو کچھ بھی نہیں جنتی ، ہماری بانجھ عورت کو تو کچھ نہیں ہوتا۔ہماری کمزوریاں تو دور نہیں ہوتیں ، ان کے لئے نصیحت ہے کہ خدا سے غیر معمولی طلب کرنے والے اپنے اندر بھی غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کیا کرتے ہیں۔وہ اپنی زندگی کو خدا کی خاطر بدل دیتے ہیں اور محض اپنی ضرورت کے وقت خدا کے حضور حاضر نہیں ہوتے بلکہ ساری زندگی حاضر رہتے ہیں۔اور اس کی رضا پر بھی راضی رہتے ہیں ، اس کے ابتلاء پر بھی راضی رہتے ہیں اور ہمیشہ یہ خوف ان کو دامنگیر ہوتا ہے کہ کہیں خدا ہماری کسی کو تاہی کی وجہ سے ہم سے ناراض نہ ہو اور ہم اس کی رضا سے محروم نہ رہ جائیں۔پس ایسے لوگوں کی دعائیں غیر معمولی طور پر اعجازی رنگ میں قبول کی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ایسے بندوں میں شامل فرمائے کہ ہم اس سے بہت کچھ مانگیں اور التجاؤں کے ساتھ مانگیں لیکن اس فیصلے کے ساتھ مانگیں کہ اگر وہ رد کر دے گا تب بھی ہم راضی رہیں گے۔حضرت مصلح موعود کا یہ شعر جو میں پہلے بھی بارہا پڑھ چکا ہوں مجھے بہت ہی پیارا ، آپ کے سب شعروں میں زیادہ پیارا لگتا ہے۔وہ یہ ہے کہ ہو فضل تیرا یارب یا کوئی ابتلاء ہو راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو ( کلام محمود صفحہ ۲۷۳) اے ہمارے اللہ ! چاہتے تو فضل ہیں لیکن فضل ہو یا ابتلاء آجائے ، تیری طرف سے اگر ابتلا