خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 416
خطبات طاہر جلد ۱۰ 416 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء میں اکیلا نہ رہوں ، میرے بعد میری اولاد آئے لیکن یہ معنے نہیں ہیں کہ اولاد نہ ہوئی تو میرے پیچھے میری بیوی اور باقی جو بھی سلسلہ ہے وہ لاوارث ہو جائے گا۔وَ اَنْتَ خَيْرُ الْوِرِثِينَ ہر شخص کے بعد تو ہی اصل وارث ہوا کرتا ہے اور اس کی ہر جائیداد، ہر عزت، ہر دولت اور ہر ذمہ داری تیری طرف لوٹ جاتی ہے۔یہاں وارث کے دو معنے ہیں ان دونوں معنوں میں آپ کو دعا کرنی چاہئے۔یعنی ان دونوں معنوں کوملحوظ رکھتے ہوئے دعا کرنی چاہئے۔ایک وارث وہ ہے جو جائیداد پالیتا ہے اور ایک وارث وہ ہے جو ذمہ داریاں ورثے میں پاتا ہے اور سچا وارث وہ ہوتا ہے جو ان کو ادا کرتا ہے تو انْتَ خَيْرُ الْوِرِثِينَ میں یہ دونوں باتیں شامل ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اے خدا! جو کچھ میرا ہے میرا تو ہے ہی کوئی نہیں۔کسی کا بھی کچھ نہیں ہم تو مر کر یہاں سے چلے جانے والے ہیں جو کچھ تو نے ہمیں عطا کیا ہے وہ سب تیری طرف واپس لوٹتا ہے اور تو ہی ہے جو باقی رہے گا اور ہر چیز آخر تیری ہی ہوگی۔دوسرا معنی یہ ہے کہ دنیا والے وارث تو اپنی ذمہ داریاں ادا کریں نہ کریں۔جو تجھ پر توکل رکھتے ہیں ان کا صحیح وارث تو ہی ہوا کرتا ہے اور ان کے سارے بوجھ تو اٹھا لیتا ہے ان کے قرضے اتارنے کا بھی تو ہی انتظام کرتا ہے۔ان کی دیگر ذمہ داریوں کا بھی تو ہی ذمہ دار بن جاتا ہے پس وارث ان دونوں معنوں میں ہے۔پس وہ لوگ جو اولاد کی تمنا رکھتے ہیں ان کو یہ دعا ان معنوں میں کرنی چاہئے کہ ہم تمنا تو رکھتے ہیں مگر یہ مطلب نہیں ہے کہ اولاد نہیں ہوگی تو ہم برباد ہو جائیں گے ہمارا تو ہی تو ہے اور تو ہمیشہ رہنے والا ہے اور جس کا تو ہو جائے اس کے نام مٹا نہیں کرتے اس کی ذمہ داریاں اس کے بعد بھی ادا ہوا کرتی ہیں۔پس اگر تو اولاد نہ دے تو ہم ناراض نہیں ہم جنگی محسوس نہیں کرتے ،تمنا ہے اگر عطا کر دے تو بہتر ہے ورنہ تو بہترین وارث ہے۔تیرے ہوتے ہوئے ہم کسی قسم کے شکوے کا حق نہیں رکھتے چنانچہ فرمایا۔فَاسْتَجَبْنَالَهُ وَوَهَبْنَالَهُ يَحْيِي وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ (الانبیاء: 9) پس ہم نے اس کی دعا کو قبول فرمالیا اور اسے ہم نے سجی بطور تحفہ عطا کیا وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ اور اس کی بوڑھی بانجھ زوجہ کی اصلاح فرما دی۔اِنَّهُمْ كَانُوا يُسْرِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا یہاں بھی قبولیت دعا کی حکمت واضح فرما دی کہ کیوں بعض لوگوں کی دعا ئیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔فرمایا إِنَّهُمْ كَانُوا يُسْرِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ یہ وہ لوگ تھے جو محض ضرورت کے وقت میرے پاس نہیں آیا کرتے تھے بلکہ ہمیشہ میری محبت کے نتیجہ میں نیک