خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 415
خطبات طاہر جلد ۱۰ 415 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی صلیب پر چند گھنٹے رہنے کے بعد دواڑھائی دن ایسی ہی حالت رہی کہ گویا جانکنی کی حالت تھی ، شدید گہرے زخموں میں آپ مبتلا تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ دم آیا کہ نہ آیا، کچھ کہا نہیں جاسکتا تھا، تو تین دن کی مشابہت اس رنگ میں حضرت یونس سے ہوئی کہ حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی مچھلی نے خواہ چند ثانیوں کے لئے یا ایک دومنٹ کے لئے ہی پیٹ میں رکھا ہو، جب اگلا ہے تو اس کے زخم بھی اتنی کاری تھے اور اتنا گہرا نقصان ہو چکا تھا کہ تین دن اس کے بعد جان کنی کی حالت میں رہے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ بیل اگا کر اس کا سایہ نہ کر دیتا اور اس بیل میں شفانہ رکھتا تو آپ کے بچنے کے بظاہر کوئی امکان نہیں تھے اور ایسی حالت سے بھی اللہ تعالیٰ نجات بخش دیتا ہے۔پس جہاں بعض احتیاطوں کے سبق ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بے انتہاء ہونے کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ایسی خطر ناک حالت میں بھی خدا تعالیٰ بچا سکتا ہے جس سے بظاہر بیچنے کی کوئی صورت نہ ہو۔اب میں آخر میں حضرت ذکریا کی دعا کے بعد اس خطبہ کو ختم کروں گا حضرت ذکریا کی ایک دعا پہلے بھی گزر چکی ہے۔اب جو دعا قرآن کریم نے دوسرے لفظوں میں ہمارے سامنے رکھی ہے وہ یہ ہے۔وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَى رَبَّهُ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَ أَنْتَ خَيْرُ الْوَرِثِينَ (انبیاء:۹۰) که زکریا کو بھی یاد کرو اِذْ نَادی ربَّہ جب اس نے اپنے رب کو پکارا اور یہ عرض کیا رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا اے میرے خدا! مجھے اکیلا نہ چھوڑ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْوِرِثِينَ اور سب وارثوں میں بہتر تو ہی وارث ہے۔پہلی دعا سے متعلق اگر کسی کو غلط نہی پیدا ہوئی ہو تو اس دعا میں اس کا ازالہ فرما دیا گیا ہے۔پہلی دعا میں یہ ذکر تھا کہ آپ نے یہ عرض کی کہ اے خدا! میرا کوئی والی نہیں ہے، مجھے شریکوں کا ڈر ہے، میری بیوی بانجھ ہے اور بوڑھی ہے، میرے مرنے کے بعد وہ اکیلی رہ جائے گی تو کوئی اس کی حفاظت کرنے والا نہیں ہوگا۔اس سے کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ حضرت زکریا کے نزدیک ظاہری اولاد کی ظاہری حکمتوں کے پیش نظر اہمیت ہے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر میرا وارث نہ ہوا تو میرے پیچھے میری بیوی گویالا وارث رہ جائے گی تو حضرت زکریا چونکہ خدا تعالیٰ سے بے انتہاء پیار کرنے والے اور اس پر بے حد تو کل کرنے والے انسان تھے اس لئے اس غلط نہی کے ازالہ کے لئے ان کی ایک اور دعا بھی قرآن کریم میں بیان فرما دی۔اس میں وہ کہتے ہیں کہ اے خدا! میری خواہش تو یہی ہے کہ