خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 392 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 392

خطبات طاہر جلد ۱۰ 392 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۹۱ء اور یہ سمجھتے ہوئے کہ تم خدا کے نمائندہ ہو تمہیں نرمی کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو بات تو تم کرلو کے، اللہ تمہیں بچا بھی سکتا ہے لیکن پھر وہ بات سمجھیں گے نہیں۔ایسے دنیا دارلوگ جو دنیا کی بڑائیوں کے نتیجہ میں اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ نرم بات سننے کے عادی ہوتے ہیں ،نرمی کی بات ان پر اثر کر سکتی ہے بخت بات اور اونچی بات سے وہ اور زیادہ بھڑک اٹھتے ہیں اور بدک جاتے ہیں۔پس قولا لينا کی یہ نصیحت دراصل يَفْقَهُوا قَوْنِی کی دعا کی استجابت کا ایک نشان ہے اسی کے نتیجہ میں یہ ہدایت فرمائی گئی ہے۔لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشُی اس طرح ایک صورت پیدا ہوسکتی ہے کہ شاید وہ نصیحت پکڑے یا شاید خدا کا خوف اختیار کرے تو جب یہ دونوں پہنچے۔دیکھیں یہاں ہر جگہ دونوں کو حکم دیا گیا ہے تثنیہ کے صیغے سے۔فرعون دونوں کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔موسیٰ سے مخاطب ہو کر اس نے کہا قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا مُوسٰی اے موسیٰ تو بتا کہ تم دونوں کا رب کون ہے؟ فرعون بھی سمجھ گیا تھا کہ ہیں دونوں ہی نمائندہ۔مگر بڑا نمائندہ یہ ہے اسلئے میں اسی کو مخاطب ہوں گا اس کے بعد ساری گفتگو حضرت موسی نے کی ہے۔حضرت ہارون ایک لفظ نہیں بولے۔قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدی موسیٰ نے جواب دیا دونوں نے جواب نہیں دیا۔قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلِّ شَيْ خَلْقَهُ وہی ہمارا رب ہے جس نے ہر چیز کو خلقت عطا فرمائی۔ثُمَّ هَدی پھر اسے ہدایت کے رستہ پر ڈال دیا پس دیکھیں کس لطافت اور باریکی کے ساتھ دعا قبول ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ موسیٰ کو طاقت عطا کی جائے گی اسے کسی وزیر کی ضرورت نہیں ہوگی مگر چونکہ اپنے اس عاجز بندے سے خدا کو بہت پیار تھا اور اس نے نیکی میں ایک شریک مانگا تھا اس لئے خدا نے وہ دعا بھی قبول کر لی اور وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِسَانِي والى دعا بھی قبول کر لی شرح صدر بھی عطا فرما دیا اور سارے قرآن کریم میں جہاں بھی فرعون کے ساتھ مکالمے کا ذکر ہے وہاں ہر جگہ آپ صرف حضرت موسیٰ کو بات کرتے ہوئے سنیں گے اور کہیں بھی حضرت ہارون کا کوئی ذکر فرعون سے گفتگو کرنے میں موجود نہیں ہے۔پس دامین الی اللہ کو چاہئے کہ وہ بھی اپنے لئے مددگار مائیں اپنے بھائیوں کو اپنا شریک بنائیں ان روحانی نعمتوں میں ان کو اپنا ساتھی بنائیں جو وہ خدا تعالیٰ سے پاتے ہیں اس میں کنجوسی نہ کریں لیکن دعا یہ کریں کہ اللہ تعالی انہیں خود کفیل بنادے اور وہ اس لائق ٹھہریں کہ ان کی باتیں ہر مخاطب غور اور تدبر سے