خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 388 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 388

خطبات طاہر جلد ۱۰ 388 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۹۱ء لدُنكَ وَلِيًّا ( مريم : 4) اے خدا! صرف میں ہی کمزور نہیں ہوں۔میری بیوی بھی بانجھ ہے۔اس میں بھی بچہ دینے کی کوئی جان نہیں ہے۔کتنا عظیم تو کل ہے کہ اس کی کوئی مثال دنیا میں کہیں آپ کو دکھائی نہیں دے گی۔ایسی ایسی عظیم دعا ئیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمارے لئے محفوظ کی ہیں کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا مانگنے کے لئے تو موجیں ہوگئی ہیں جتنا مشکل رستہ ہے اتناہی آسان ہو جاتا ہے۔جب ہم انعام پانے والوں کی دعاؤں کا ذکر قرآن کریم میں پڑھتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ وہ رستے آسان ہوئے کیسے تھے؟ تو اب سنئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس بندے نے مجھ سے یہ دعا کی۔میری ہڈیاں نرم پڑ چکی ہیں۔میرا سر سفیدی سے بھڑک اٹھا ہے وَلَمْ أكُن بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيًّا (مریم: ۵) اے اللہ آج تک میں تجھ سے، تیری رحمت سے مایوس نہیں ہوا۔وَانّى خِفْتُ الْمَوَانِيَ مِنْ وَرَاءِنی میں اپنے بعد اپنے شریکے سے ڈر رہا ہوں کہ وہ پتہ نہیں ہم لوگوں سے کیا سلوک کریں گے وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا اور میری بیوی بانجھ ہے اس کا کوئی بچہ نہیں جو اس کی نگہداشت کر سکے۔اس کے لئے کھڑا ہو سکے ، اس کی حمایت کر سکے۔یہ تنہا اس دنیا میں رہ جائے گی فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا مجھے اپنی جناب سے کوئی ولی کوئی دوست عطا فرما اور ولی کی دعانے اس کی نیکی کی دعا بھی ساتھ ہی مانگ لی کیونکہ بد اولا د نیک لوگوں کی ولی نہیں ہوا کرتی۔کیسی فصاحت و بلاغت ہے۔حضرت ذکریا کی دعا؟ واقعی یہ تو کہتے ہیں سنہری حرفوں سے لکھنے کے لائق ہے مگر سنہری حرف کیا چیز ہیں جس دعا کو خدا تعالیٰ نے اپنے کلام میں محفوظ کر لیا اس سے زیادہ روشن اور کوئی چیز کوئی روشنائی اس کو ہمیشہ کے لئے قائم نہیں رکھ سکتی پھر کہا يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ (مریم: ) کہ میں ایسی اولا دچاہتا ہوں جو میرا اور آل یعقوب کا ورثہ پائے اور یہ ورثہ نیکیوں کا ورثہ تھا کوئی دنیاوی دولتوں کا ورثہ نہیں تھا وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا اور ایسا اس کو بنا جس سے تو راضی ہو جائے۔اب جیسا کہ یہ دعا ہے ظاہر ہے کہ یہ دعا یوں لگتا ہے کہ نا مقبول ہو ہی نہیں سکتی۔جس طرح اس کا مضمون اٹھایا گیا ہے جس طرح اس کا آغاز کیا گیا ہے۔پڑھتے پڑھتے انسان کا دل یقین میں ڈوب جاتا ہے، یہ انسان کا دل بے اختیار گواہی دینے لگتا ہے کہ ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اس دعا کو نا منظور فرما دے۔چنانچہ اس کے معا بعد یہ نہیں فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا سن لی، بلکہ بے