خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 387
خطبات طاہر جلد ۱۰ 387 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۹۱ء 66 سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ک سے مراد کاف ہے یعنی خدا اپنے بندے کے لئے کافی ہے الیس الله بکاف عبدہ میں یہی لفظ کاف پایا جاتا ہے کیا خدا اپنے بندے کیلئے کافی نہیں جس کی انگوٹھیاں احمدی اکثر پہنے پھرتے ہیں۔تو پہلی بات تو کی ہے پھر خدا سے مایوس ہونے کا کیا سوال۔کیا وہ اپنے کیلئے کافی نہیں پھر ”ھ“ سے مرادھاد ہے یعنی ہدایت دینے والا وہی ہے جو اپنے بندے کو ہدایت پر قائم رکھے تو رکھے ورنہ انسان اپنی طاقت سے ہدایت پر قائم رہ نہیں سکتا۔”ی“ کا لفظ مخاطب کا ہے کہ اے خدا جو کافی ہے اور ھادی ہے اور ”ع“ سے مراد عالم یا علیم اور ص “ سے مراد صادق ہے۔عالم ان معنوں میں یعنی اس لئے اس موقع پر اس کا استعمال ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کسی کے لئے کوئی اولا دمفید ہے یا نہیں ہے۔کیوں اولا دعطا فرماتا ہے؟ کیوں نہیں اولا د عطا فرما تا اور صادق ان معنوں میں کہ اگر وہ وعدہ کر لے تو ضرور پورا ہوتا ہے۔خواہ بظاہر اولاد کے پیدا ہونے کا کوئی امکان بھی باقی نہ ہو۔پس ان صفات الہی کے ذکر کے بعد فرمایا اب ہم تجھ سے اپنے ایک بہت ہی پیارے بندے زکریا کے ساتھ اپنے حسن سلوک کا ذکر کرتے ہیں۔اِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاء خَفِيًّا اس نے ہلکی ہلکی آواز میں جس طرح ایک آدمی کراہتا ہے اور گلے اور منہ سے درد ناک سی آواز میں نکلتی ہیں گو بظاہر دوسرے آدمی کو وہ پوری طرح سمجھ بھی نہیں آتیں لیکن یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ بہت ہی کوئی دردناک بات ہورہی ہے تو اس حالت میں حضرت زکریا نے اپنے رب سے ایک دعا مانگی۔وہ یہ تھی قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظمُ مِنْيَ وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَ لَمْ أَكُنْ بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيًّا (مریم: ۵) اے میرے اللہ ! میری ہڈیاں نرم پڑ چکی ہیں اور بڑھاپا میرے سر پر غالب آگیا ہے اور اس طرح وہ بھڑک اٹھا ہے جس طرح آگ روشن ہو جاتی ہے۔اس طرح سفیدی سے میرا سر روشن ہو گیا ہے وَلَمْ اَكُنُ بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيًّا اے اللہ میری وفا کو دیکھ کہ اب تک میں اپنی دعا سے جو میں تیرے حضور کر رہا ہوں مایوس نہیں ہوا کتنی عظیم الشان دعا ہے ایک بوڑھا آدمی جس کی ہڈیاں گل گئی ہوں، جس میں پوری طرح کھڑے ہونے کی طاقت نہ رہی ہو، اس کے بال سفید ہو چکے ہوں اور صرف یہی نہیں بلکہ یہیں آگے جا کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وانی خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَاءِى وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ