خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 377
خطبات طاہر جلد ۱۰ 377 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۹۱ء حقوق ادا نہیں کرتے تھے۔محض مجھے زندہ رکھنے کے لئے اور روزمرہ کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے محنت نہیں اٹھاتے تھے بلکہ اس سے بہت بڑھ کر مجھ سے شفقت اور رحمت کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔میری معمولی سی تکلیف پر یہ بے چین ہو جایا کرتے تھے۔میری ادنی سی بیماری پر ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہو جایا کرتی تھیں اور انہوں نے جو مجھ سے سلوک فرمایا وہ رحمت کا سلوک ہے۔پس مجھے جو احسان کا حکم ہے کہ میں بھی احسان کا سلوک کروں تو اے خدا! میں اس احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتا اس لئے میں دعا کے ذریعے تجھ سے مدد چاہتا ہوں اور جب تک تو اس بارہ میں میری مدد نہ فرمائے حقیقت میں میرے والدین کے مجھ پر اتنے احسانات ہیں کہ میں جو بھی کوشش کروں اس کے باوجود ان احسانات کو چکا نہیں سکتا۔پس تو میری مدد فرما اور رب ارْحَمْهُمَا اے خدا تو ان کے اوپر رحم فرما اور میرے سلوک میں جو کمیاں رہ جائیں گی وہ تو اپنے رحم سے پوری فرمادے۔كَمَارَ بَّيْنِي صَغِيرًا جس طرح بچپن میں یہ میری تربیت کرتے رہے تو ان کے ساتھ وہ سلوک فرما۔اس دعا نے ایک اور حیرت انگیز مضمون کو ہمارے سامنے کھول دیا کہ والدین بھی جہاں تک خدا کا تعلق ہے اس کی تربیت کے محتاج ہیں لَّهُمَا اُف کہنے کے ساتھ ان کی بشری کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے تو وہاں بھی خدا تعالیٰ کی ربوبیت کی بہت ضرورت ہے اور انسان تو مرتے دم تک خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا محتاج رہتا ہے اس لئے یہ دعا بہت ہی کامل دعا ہے اور اس کے معنی یہ بنیں گے کہ اے خدا! اگر چہ بظاہر ان کے اعضاء مضمحل ہوچکے ہیں یہ کمزوری کی طرف لوٹ رہے ہیں، طاقت کے بعد ضعف شروع ہو چکا ہے لیکن ضعف کے وقت زیادہ رحم کے ساتھ تربیت کی ضرورت پیش آتی ہے۔جب میں بچہ تھا تو میرے والدین نے مجھ سے میرے ضعف کی وجہ سے رحم کا سلوک کیا اور صغیرا کے لفظ نے بتادیا کہ بڑے ہو کر رحم کا معاملہ اتنا نہیں رہا کرتا جتنا بچپن میں ہوتا ہے۔بچپن کی کمزوری ہے جو رحم کا تقاضا کرتی ہے۔بچے کو آپ ایک بات سکھاتے ہیں۔چلانا سکھائیں تو بار بار وہ گرتا ہے، بولنا سکھائیں تو بار بار غلطیاں کرتا ہے تلا تا ہے سبق پڑھائیں تو اس کو پڑھا ہوا سبق بار بار بھولتا جاتا ہے لفظ آپ رٹا بھی دیں تو پھر اگلی دفعہ جب سنتے ہیں تو اس لفظ میں پھر وہی غلطیاں کرنے لگ جاتا ہے۔بعض دفعہ بچے کو پڑھانا اعصاب شکن ہوتا ہے اور حقیقت میں