خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 376 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 376

خطبات طاہر جلد ۱۰ 376 خطبہ جمعہ ۳ رمئی ۱۹۹۱ء پہلی بات تو یہ ہے کہ احسان کا حکم دیا گیا ہے۔ادا ئیگی فرض کا نہیں اور احسان بظا ہر ضروری نہیں ہوا کرتا۔احسان تو ایسا معاملہ نہیں ہے کہ ہر انسان پر فرض ہو۔کیا یا نہ کیا کوئی فرق نہیں پڑتا۔یعنی اگر فرق پڑتا بھی ہے تو احسان ایک ایسی بات نہیں ہے جو اگر انسان نہ کرے تو خدا کے نزدیک معتوب ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ نے ذمہ داریاں ادا کرنے کا حکم کیوں نہ دیا اور احسان کا حکم کیوں دیا؟ اس میں اور بھی حکمتیں پوشیدہ ہوں گی لیکن دو ایسی حکمتیں ہیں جن کو میں آپ کے سامنے کھولنا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ فرض کی ادائیگی پہلے ہوا کرتی ہے اور احسان بعد میں آتا ہے اگر فرض ادا نہ ہو تو احسان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لئے قرآن کریم جو بڑی فصیح و بلیغ کتاب ہے ، خدا کا کلام ہے اس نے ایک لفظ میں اس سے پہلے ہو نیوالی ذمہ داریوں کا بھی ذکر فر ما دیا اور مومن سے گویا یہ توقع رکھی کہ جہاں تک اس کی روزمرہ کی ذمہ داریوں کا تعلق ہے فرائض کا تعلق ہے وہ تو لا زماوہ پورے کر رہا ہے ان کو نہ پورے کرنے کا تو سوال ہی نہیں لیکن جہاں تک والدین کا تعلق ہے محض ذمہ داریاں پورا کرنا کافی نہیں ہے۔ان کے ساتھ احسان کا سلوک ہونا ضروری ہے۔ایک یہ حکمت ہے۔دوسری حکمت یہ ہے کہ یہاں لفظ احسان کو سمجھنے کے لئے ہمیں قرآن کریم کی ایک اور آیت کا سہارا لینا ہو گا جو اس مضمون کے لئے کنجی کی حیثیت رکھتی ہے۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْاِحْسَانُ ( الرحمن :۶۱ ) کہ احسان کی جزاء احسان کے سوا کیا ہوسکتی ہے ؟ پس یہ احسان ان کے اوپر ان معنوں میں احسان نہیں ہے جن معنوں میں ہم ایک دوسرے پر احسان کرتے ہیں۔یہ احسان والدین کے اوپر اولاد کی طرف سے کوئی یک طرفہ نعمت نہیں ہے جوان کو ادا کی جارہی ہے بلکہ خدا تعالیٰ یہ بیان فرما رہا ہے کہ والدین نے تم سے احسان کا معاملہ کیا تھا اس لئے صرف فرض کی ادائیگی کافی نہیں ہوگی جب تک تم ان سے احسان کا معاملہ نہیں کرو گے تم اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے والے نہیں بنو گے۔چنانچہ فرمایا هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ لَه احسان کی جزاء تو احسان کے سوا ہے ہی کوئی نہیں۔کوئی شخص تم پر احسان کرتا چلا جارہا ہو اور تم اپنی روزمرہ کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہو تو یہ کافی نہیں ہے۔چنانچہ اس مضمون کو آیت کے آخری حصے نے کھول دیا یہ جہاں دعا سکھائی گئی: رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَارَ بَّيْنِي صَغِيرًا اے اللہ ان سے اس طرح رحم کا سلوک فرما جس طرح یہ بچپن میں مجھ سے رحم کا سلوک فرماتے تھے۔صرف اپنے