خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 375 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 375

خطبات طاہر جلد ۱۰ 375 خطبہ جمعہ ۳ رمئی ۱۹۹۱ء هُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا - إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اگر ان میں سے کوئی تیرے ہوتے ہوئے تیری زندگی میں بڑھاپے تک پہنچ جائے۔ان میں سے خواہ ایک پہنچے یا دونوں پہنچیں فَلَا تَقُل لَّهُمَا اُف ان کو اف تک نہیں کہنی۔اف نہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے بڑھاپے میں ایسی حرکتیں ہو سکتی ہیں جو ان کے بچپن کے سلوک سے مختلف ہوں۔بچپن میں تو وہ بڑی رحمت کے ساتھ تمہاری تربیت کرتے رہے لیکن بڑھاپے کی عمر میں پہنچ کر انسان کو اپنے جذبات پر اختیار نہیں رہتا۔زیادہ زود رنج ہو جاتا ہے اور بہت سی صحت کی کمزوریاں اس کے مزاج میں چڑ چڑا پن پیدا کر دیتی ہیں پھر کئی قسم کے احساسات محرومی ہیں۔اولاد بڑی ہوگئی، اپنے گھروں میں آباد ہوگئی اور جس طرح والدین توقع رکھتے ہیں کہ یہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی ویسا ہی معاملہ کرے گا اس میں کوئی کوتاہی رہ جاتی ہے یا والدین کو وہ ہم گزرتا ہے کہ ہم سے ویسا پیار نہیں جیسا اپنی بیوی اور اولاد سے ہے تو ان باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن کریم نے بڑی حکمت کے ساتھ فرمایا۔فَلَا تَقُل لَّهُمَا اُف ایسی باتیں ہونگی جن کے نتیجے میں ہو سکتا ہے تمہیں جائز یا نا جائز شکایت پیدا ہواور والدین تم سے بظا ہر سختی کا سلوک کرنا شروع کر دیں۔تم جو بچپن کی نرمی کے عادی ہو اس سلوک سے گھبرا کر اف نہ کہ بیٹھنا۔اف کا لفظ کوئی گالی نہیں ہے، کوئی سخت کلامی نہیں ہے۔ایک اظہار افسوس ہے۔فرمایا کہ اظہار افسوس تک نہیں کرنا۔وَلَا تَنْهَرْهُمَا اور جھڑ کنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اپنے والدین کے ساتھ ہر گز سخت کلامی نہیں کرنی قُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا اوران کے ساتھ عزت کا کلام کیا کرو۔ہمیشہ احترام کے ساتھ ان سے مخاطب ہوا کرو وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ اور اپنی نرمی کے پر ان کے اوپر پھیلا دو مِنَ الرَّحْمَةِ رحمت کے اور نرمی کے یا رحمت کے نتیجے میں جو نرمی پیدا ہوتی ہے۔اس کے پر ان پر پھیلا دو اور پھر یہ دعا کرو: وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا جس طرح انہوں نے بچپن میں بڑے رحم کے ساتھ میری تربیت فرمائی ہے۔یہ بہت ہی پیاری اور کامل دعا ہے اور بہت سی ذمہ داریوں کی طرف جو اولاد کے ذمہ اپنے والدین کے لئے ہیں، ہمیں توجہ دلاتی ہے لیکن اس دعا میں اور بھی بہت سی حکمتیں پنہاں ہیں۔اب میں نسبتا تفصیل سے اس آیت کے بعض مضامین کھول کر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔