خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 368
خطبات طاہر جلد ۱۰ جائے گا۔368 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء یہاں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ باوجود اس کے کہ پیدائش سے پہلے حضرت ابراھیم علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دعامانگی تھی کہ نیک اولا د چاہتا ہوں۔نماز پڑھنے والی اولا دچاہتا ہوں۔اسی لئے تیرے گھر کے پاس جہاں نہ پانی تھا نہ خوراک کا کوئی انتظام تھا، اپنے نوزائیدہ بچے کو چھوڑ دیا کہ وہ تیری عبادت کرے اگر غذا کی اور دنیاوی لذتوں کی خواہش ہوتی تو ان آباد جگہوں سے لے کر اس ویران جگہ میں کیوں آتا۔یعنی اس میں نیت کی صداقت کتنی گہری اور کتنی صفائی کے ساتھ ظاہر ہو رہی ہے اور اس دعا کو خدا نے قبول بھی فرمالیا اس کے باوجود جب تک زندگی کا سانس ہے یہ دعا جاری رہنی چاہئے کیونکہ عبادت پر قائم ہونے کے باوجود عابدوں کے لئے بھی امتحانات آیا کرتے ہیں اور ٹھوکر کے مواقع پیدا ہوتے رہتے ہیں۔بعض ایسے عبادت کرنے والوں کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے کہ عمر بھر عبادت کی مگر کسی موقعہ پر کسی وجہ سے ٹھوکر کھا کر ہمیشہ کے لئے خدا سے دور جا پڑے۔پس عبادت کرنے والے کو تکبر سے باز رکھنے کے لئے اور خدا کی خوشخبریاں پانے کے باوجود انکسار کے ساتھ خدا کے حضور یہ عرض کرتے رہنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جو کچھ ہم نے عبادت میں حاصل کیا ہے جب تک زندگی کا سانس ہے اسے خطرہ ہے۔یہ تیری طرف سے ایک دولت اور نعمت ہے تو سہی لیکن نعمتیں بھی تو ضائع ہو جایا کرتی ہیں اس لئے ابراہیم علیہ السلام خود پہلے اپنے لئے دعا کرتے ہیں۔رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلوۃ اے خدا مجھے بھی نماز قائم کرنے والا بنا۔اب بتا ئیں آج کل کوئی شخص اگر بظا ہر نماز پر قائم ہو چکا ہو تو اس کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نماز پر قائم ہونے سے بھلا کیا مقابلہ؟ کوئی نسبت ہی نہیں ہے لیکن بعض نمازی آج کل کی اس دنیا میں بڑا تکبر کر جاتے ہیں۔ہمیں اور کیا چاہئے ہم نماز پڑھتے ہیں اور خوب سختی سے نماز پر قائم ہیں حالانکہ سختی سے قائم ہونا اور چیز ہے اور دل کی نرمی کے ساتھ نماز پر قائم ہونا اور چیز ہے لیکن ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا نمونہ ہمیں بتاتا ہے کہ نماز پر قائم ہونا محفوظ مقام نہیں ہے جب تک انسان آخری سانس نہ لے اور خدا اپنی طرف نہ بلالے۔پس اس دعا کو اس مضمون کو سمجھنے کے بعد ادا کیا کریں اور خدا کے حضور اپنی عبادتوں کو فخر کے ساتھ پیش نہ کریں بلکہ عاجزی اور انکسار کے ساتھ ڈرتے ڈرتے پیش کریں اور دنیا کی طرف نگاہ