خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 367 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 367

خطبات طاہر جلد ۱۰ 367 خطبہ جمعہ ۲۶ اپریل ۱۹۹۱ء سے نیک اولا د مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ نے وہ نیک اولاد عطا فرما کر بتا دیا کہ تیری نیت پاک تھی چنانچہ اس کو اسماعیل دیا پھر اس کو اسحاق دیا۔ اِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ چنانچہ ابراہیم خود اقرار کر جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے دماغ وہاں پہنچا ہے تو خود ہی بات بھی سمجھ آگئی ہے عاجزی کے معاً بعد اللہ تعالیٰ نے سمجھا بھی دیا ہے کہ ابراہیم تو کیوں اپنی نیتوں کے متعلق ڈر رہا ہے۔ اپنی اولاد کے منہ تو دیکھ، کتنے پاک چہرے ہیں۔ ان کے وجودوں پر نظر کر کیا یہ تیری دعاؤں کا ثمرہ نہیں ہیں؟ اگر ہیں تو پھر الحمد پڑھ اور خدا کا شکر ادا کر اور اس کی حمد کے گیت گا اور یہ کہ اِن رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ ۔ کہ دیکھو دیکھو میرا رب بہت ہی دعا سننے والا ہے اور اس دعا کی مقبولیت کے نشان کے طور پر اس نے مجھے ایسی پاک اولا د عطا فرمائی۔ یہ ویسی ہی دعا ہے۔ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اپنے شعروں میں کہا کہ ه بشارت تو نے دی اور پھر یہ اولاد کہا ہرگز نہیں ہوں گے یہ برباد بڑھیں گے جیسے باغوں میں ہوں شمشاد بشارت کیا ہے اک دل کی غذادی فسبحان الذي اخرى الاعادي ( در ثمین : ۔۔۔) پس بار بار اللہ تعالیٰ اپنے پاک بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کی دعاؤں کے مطابق پھل لگاتا ہے اور جب وہ پھل نکلتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ ہاں وہ دعا ئیں بھی سچی تھیں اور یہ پھل بھی سچے نکلے۔ اب میں آخر پر (گو مضمون کا ابھی آخر نہیں آیا ابھی کافی ہے لیکن باقی آئندہ انشاء اللہ ) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہی ایک دعا پڑھتا ہوں ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کی: رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلُوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَاءِ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ ( ابراهيم : ۴۱-۴۲) کہ اے خدا! مجھے اور میری اولاد کو نماز پر قائم رکھ ۔ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَاء اور اے ہمارے رب ضرور ہماری دعا قبول کرلے۔ ربنا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ اے خدا مجھے بھی بخش دے اور میرے والدین کو بھی بخش دے۔ وَلِلْمُؤْمِنِينَ اور مومنوں کو بھی بخش دے ۔ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَاب جس دن حساب کتاب کیا