خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 366 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 366

خطبات طاہر جلد ۱۰ 366 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء دیکھیں اور بار بار شکر ادا کریں کہ اے خدا! محض تیرے پیار کا اظہار ہے کہ لوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہورہے ہیں ورنہ ہماری کیا حیثیت تھی۔رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ (ابراهیم : ۳۹) حضرت ابراہیم کا مقام آپ کی دعاؤں پر غور کرنے سے مزید ابھرتا چلا جاتا ہے۔یہ عرض کیا کہ اے خدا! میری نیت پاک ہے مجھے تو یہ دلچسپی تھی کہ عبادت کرنے والے ہوں۔ظاہری رزق میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ بعض دفعہ انسان اپنی مخفی نیتوں سے خود بھی واقف نہیں ہوا کرتا۔خدا کے حضور تو یہ دعویٰ کرنا بہت بڑی بات ہے کہ میں اس نیت سے کر رہا ہوں اور فلاں نیت سے نہیں کر رہا۔تو فوراً عرض کیا : رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ اے خدا! تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جن باتوں کا ہم اظہار کر رہے ہیں۔مطلب ہے ہم اچھی نیتیں کہہ بھی دیں، اچھی باتیں تیرے حضور عرض کر رہے ہوں کہ ہم یہ یہ نیکیاں پیش نظر رکھتے ہوئے دعائیں کر رہے ہیں پھر بھی احتمال موجود ہے کہ بعض مخفی ارادے برے ہوں۔بعض مخفی نیتیں گندی ہوں یا نفسانی ہوں اس لئے میں تیرے حضور یہ عرض کرتا ہوں کہ میں اپنے متعلق کسی بھی براءت کا اقرار نہیں کرتا۔میں جانتا ہوں کہ مجھے جو نیت صاف دکھائی دے رہی ہے اس کے پیچھے پھر بھی ممکن ہے کہ کوئی ایسا مخفی بدا رادہ موجود ہو اس کے لئے تو مجھ سے رحمت کا سلوک فرمانا۔یعنی اپنی عاجزی کا اظہار ہے اور احتمالی گناہوں کا اقرار ہے۔وَمَا يَخْفَى عَلَى اللهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ میں کیا چیز ہوں۔اے خدا! تو تو وہ ہے جس سے آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى وَهَبَ لِيْ عَلَى الْكِبَرِ اسْمَعِيلَ وَإِسْحَقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ ( ابراهیم : ۴۰) ہرحمہ اللہ ہی کے لئے ہے جس نے اس بڑھاپے کی عمر میں اسماعیل اور الحق جیسی اولاد عطا فرمائی اور یہ وہ اولاد ہے۔جو نیک اولاد کی طلب کے نتیجے میں عطا ہوئی اور جس نے ثابت کر دیا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی نیت اندر تک پاک تھی۔پس بظاہر یہ نہیں فرمایا گیا لیکن جب اس مضمون کو آپ اکٹھ ملا کر پڑھیں تو خدا کی طرف سے یہ گواہی بھی ساتھ دے دی گئی ہے کہ ابراہیم تو اپنے بجز میں کہہ رہا تھا کہ جہاں تک میں جانتا ہوں میری نیت صاف ہے لیکن تو بہتر جانتا ہے۔ساتھ ہی اس نے ایک ایسی بات کہی جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی نیت کو جانتا تھا اور اس کی نیت کی پاکی کے مطابق اس سے سلوک فرمایا کیونکہ جس نیک اولاد کے متعلق اس نے کہا کہ میں تجھ