خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 365
خطبات طاہر جلد ۱۰ 365 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔بس یہ کہہ کر بات چھوڑ دی۔تو چاہے تو سزا دے سکتا ہے اور میری پہلی دعا کے جواب میں تو نے مجھے بتا دیا ہے کہ ایسے بدنصیبوں کو بالآخر سزا ملے گی تو میں اب نئی ترمیم شدہ دعا یہ عرض کر رہا ہوں کہ جو میرا ہے وہ تو امن میں آہی گیا اور جو میرا نہیں رہے گا میں اس کے لئے بھی صرف یہ کہتا ہوں کہ اس کو نہ دیکھنا۔اپنی ذات کو دیکھنا۔وہ گنہگار ہے لیکن تو غفور رحیم ہے۔دعا کا کتنا پیارا انداز ہے۔اور دعا کا کتنا دردناک انداز ہے۔اگر اس گہرے درد کو سمجھ کر اسی درد میں ڈوب کر آپ دعائیں کریں تو دیکھیں آپ کی دعاؤں کو کیسے کیسے پھل لگتے ہیں۔پھر عرض کیا: رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفْبِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمْ وَارْزُقُهُمُ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَّعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ) (ابراهیم: ۳۸) کہ اے خدا ! میں نے اپنی اولاد کو اپنی اس پیاری اولا د اسماعیل کو اس بے آب و گیاہ وادی میں ایک ایسے لق و دق صحرا میں جہاں کچھ بھی نہیں اُگتا۔تیرے مقدس گھر کے قریب اس لئے چھوڑا لِيُقِيمُوا الصَّلوة کہ یہ لوگ تیری عبادت کریں۔اس لئے جو دعا مانگی تھی کہ ان کو پھل دینا، ان پر رحمتیں کرنا ( پہلی دعا میں یہ ذکر تھا) وہ ثانوی باتیں ہیں۔میرا اصل مقصد یہ تھا کہ تیرے گھر کے قریب میں ان کو چھوڑوں تا کہ اس گھر کے مقاصد کو یہ پورے کرنے والے ہوں۔لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفَبِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِم پس اس وجہ سے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر کہ یہ تیرے عبادت گزار بندے ہیں ورنہ اگر تیرے عبادت گزار بندے نہ ہوں تو ان کو پھل کھلوانے میں مجھے کوئی دلچپسی نہیں۔مجھے تو یہ دلچسپی تھی کہ قیامت کے دن تو بخشش کر سکتا ہے تو ضرور بخش دے۔جہاں تک دنیاوی پھلوں کا تعلق ہے تو نے وعدہ تو کر دیا ہے مگر میں عرض کر دوں کہ ابھی بھی مجھے اس میں کوئی دلچپسی نہیں۔دنیا میں ان کو کچھ دے نہ دے لیکن جو نیک بندے ہیں ، جو عبادت کرنے والے ہیں ، ان کی طرف دلوں کو ضرور مائل فرمانا اور ان کے لئے لوگ دور دور سے طرح طرح کے تحائف لے کر آئیں ہر قسم کے پھل ان تک پہنچیں لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ تا کہ وہ تیرے شکر گزار بنیں۔ان نعمتوں کو