خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 364
خطبات طاہر جلد ۱۰ 364 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ یعنی ان سب کو جو اللہ پر ایمان لے آئیں اور آخرت پر ایمان لے آئیں۔قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَا مَتَّعُهُ قَلِيلًا اے ابراہیم ! میں تیری دعا کو اس سے زیادہ قبول کرتا ہوں جتنا تو مانگ رہا ہے جو ان میں سے ایمان نہیں بھی لائے میں دنیا کی زندگی میں ان کو بھی فائدہ پہنچاؤں گا ہاں آخرت میں ان کو میں عذاب دوں گا۔یہ جو آخرت کے عذاب کا جواب تھا اس نے حضرت ابراہیم کو بڑا ڈرا دیا ہے اور اگلی دعا میں پھر آپ نے ترمیم کرلی ہے۔اس ترمیم کی طرف میں آپ کو لے کر جاؤں گا تو پھر آپ سمجھیں گے کہ اس دعا میں اور اس دعا میں کیوں فرق ہے ؟ اور کیسے پیارے انداز میں پھر آپ نے وہ ترمیم کر کے دعا کی ہے۔کہتے ہیں : هَذَا الْبَلَدَا مِنَّا وَ اجْنُبْنِي وَبَنِى اَنْ نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ پتا لگ گیا ہے کہ کوئی ظالم ضرور پیدا ہوں گے، کچھ مشرک پیدا ہوں گے، شہر تو حید کی خاطر بنایا گیا لیکن یہیں شرک کرنے والے بھی داخل ہو جائیں گے۔تو یہ دعا کی کہ اے خدا ! مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے بچائے رکھ کہ ہم کبھی بھی بتوں کی پرستش کریں۔رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ (ابراهیم :۳۷) کہ ان بتوں اور جھوٹے خداؤں نے تیرے اکثر بندوں کو گمراہ کردیا۔فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّى جوان میں سے میری پیروی کرے گا وہ میرا ہوگا اور جو میرا ہوگا وہ موحد ہی رہے گا۔اس لئے میروں پر تو ناراض ہو گا ہی نہیں ، کس طرح ان کا دامن بچالیا۔پہلے خدا نے اس دعا کے نتیجے میں ایک استثناء کیا تھا اور کہا تھا کہ میں ان کے ساتھ دنیا میں تو حسن سلوک کرتا رہوں گالیکن آخرت میں ان کو پکڑوں گا اس کے بعد یہ کہا کہ جو میرا ہوگا اس کو تو لاز مسز انہیں دے گا کیونکہ مجھ سے تو اتنا پیار کرتا ہے اور مجھ سے تو ایسا حسن سلوک فرماتا ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو میرا ہواس کے ساتھ بھی تو کسی قسم کا غضب کا معاملہ فرمائے گا۔رہا ان لوگوں کا معاملہ جو میرے خلاف ہوں گے، جو گنہگار ہوں گے ، جن کے متعلق تو نے کہا ہے کہ میں انہیں عَذَابٌ أَلِیم میں مبتلا کروں گا حضرت ابراہیم بے حد رحم کرنے والے تھے بڑے نرم دل تھے اور قرآن کریم میں اس کا ذکر فرمایا گیا ہے تو وہاں بھی دل نہیں چاہتا کہ ان سے سختی کا سلوک ہو تو کہتے ہیں کہ وَمَنْ عَصَانِي جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو میرے نافرمان ہیں فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِیم مجھے تو اتنا پتا ہے کہ تو بڑا بخشنے