خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 360

خطبات طاہر جلد ۱۰ 360 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء رکھتا ہے اور ادب بھی رکھتا ہے وہاں بھی بعض دبی ہوئی آزمائشیں بہت ہی خطرات کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں اور اس سلسلے میں نہایت اعلی تعلیم یہ دی گئی ہے کہ اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔استغفار سے کام لینا چاہئے اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہئے اور اللہ پر تو کل کرنا چاہئے اور خدا سے یہ دعا کرنی چاہیئے۔وَإِلَّا تَغْفِرُ لِي وَتَرْحَمْنِى اَكُنْ مِنَ الْخَسِرِينَ کہ اے خدا! اگر تو نے بخشش کا سلوک نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو اس صورتحال میں میں یقیناً گھانا پانے والوں میں شامل ہو جاؤں گا اور اگر سوال اٹھتے ہی ہیں۔تو پھر یہ دعا بہت اچھی ہے۔یعنی اس کا پہلا حصہ کہ قَالَ رَبِّ إِنِّي أعُوذُ بِكَ اَنْ اَسْتَلَكَ مَا لَيْسَ لِى بِهِ عِلْمٌ اے خدا! میں تیری حکمتوں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔میں نہیں جانتا کہ اس دنیا میں بہت سی باتیں کیوں ہورہی ہیں۔تیری تقدیر کیا کیا مخفی مصلحتیں لئے ہوئے ہے۔تیرے فیصلے کو ہم دیکھ لیتے ہیں۔تیری تقدیر پر نظر نہیں جاتی۔اس لئے ہم تجھ سے ان شکوک کے بارہ میں پناہ مانگتے ہیں جو ایسے موقعوں پر دلوں میں پیدا ہو جایا کرتے ہیں۔ایک دعا حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا ہے جو اسی سورۃ کا ایک اور مضمون بھی ہمیں سمجھا رہی ہے۔سورہ یوسف کے آغاز میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو ہم بیان کرنے لگے ہیں یہ أَحْسَنَ الْقَصَصِ ہے اتنا حسین واقعہ ہے کہ ایسا دلچسپ واقعہ، اس سے زیادہ پیارا اور دلکش قصہ تم نے کبھی نہیں سنا ہوگا ، نہ سن سکتے ہو کیونکہ یہ اَحْسَنَ الْقَصَصِ ہے۔اب قرآن کریم میں انبیاء کے بہت سے فقص بیان ہوئے ہیں اور ایک سے ایک بڑھ کر بڑے دلچسپ واقعات بیان ہوئے ہیں لیکن صرف سورۃ یوسف کو أَحْسَنَ الْقَصَصِ کہا گیا ہے۔میں اس پر غور کرتا رہا تو میرے دل نے یہ گواہی دی کہ یہ دعا جو حضرت یوسف نے کی ہے یہ حسن کی انتہاء ہے اتنی حسین دعا ہے اور حضرت یوسف کے حسن کا ایک عجیب منظر پیش کرتی ہے کہ انسانی دنیا میں آپ کو ایسی مثالیں دکھائی نہیں دیں گی۔آپ کو زلیخا نے جب ابتلاء میں ڈالا اور دعوت دی اور اپنے ساتھ اس شہر کی یا اس قصبے کی دوسری خوبصورت عورتوں کو بھی شامل کر لیا کہ اگر یہ اکیلا میرے سے پوری طرح قابو نہیں آسکتا تو ہوسکتا ہے ہم سب مل کر اس پر اپنا جادو چلائیں تو یہ اس جادو کے اثر کے تابع ہماری بات مان جائے۔یہ سکیم تھی جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔اس پر حضرت یوسف یہ دعا کرتے ہیں: قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إلَى مِمَّا يَدْعُونَنِي اِلَيْهِ (یوسف) (۳۴) یہ مجھے لذتوں کی طرف اور عیش وعشرت کی طرف