خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 359
خطبات طاہر جلد ۱۰ 359 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء معمہ ہے کہ اگر علم ہو تو سوال کرنے کی ضرورت کیا ہے اور اگر علم نہ ہوتو سوال کرنا گناہ کیسے ہو گیا۔دراصل یہاں سوال کی پردہ داری فرمائی گئی ہے ،ستاری کا سلوک ہوا ہے۔ایک خفیف سا اعتراض دل میں پیدا ہوا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا گیا اور چونکہ حضرت نوح ایک بڑے بلند پایہ نبی تھے اور اس اعتراض پر خود آپ نے بھی معلوم ہوتا ہے پردہ رکھا ہوا تھا۔آپ نے جو دعا کی ہے اور سوال کیا ہے وہ بتارہا ہے کہ ادب اپنی جگہ ہے لیکن ساتھ ہی بے قراری بھی ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی میں کیا کروں۔میرا دل بے چین ہو گیا ہے خدا کے اولوالعزم انبیاء ہوتے ہیں ان کا دل ایسی باتوں پر بے چین نہیں ہونا چاہئے۔ان سے خدا یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ سمجھ جائیں کہ کچھ ایسے واقعات ضرور ہوئے ہیں جن کا مجھے علم نہیں لیکن خدا کے علم میں ہیں اور خدا کا فیصلہ سچا ہے اس لئے فیصلے سے متعلق سوال اٹھانے کا مجھے کوئی حق نہیں۔یہ جو مضمون ہے یہ بہت ہی لطیف اور بہت گہرا مضمون ہے اور اس کو بھلا دینے کے نتیجے میں میں نے دیکھا ہے بہت سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے احمدی بھی ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔خلفائے وقت کے کئی ایسے فیصلے ہوتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ کے زمانے میں بارہا ایسے واقعات ہوئے ہیں جو کسی بار یک حکمت کے پیش نظر کئے جاتے ہیں اور ان کا دنیا کو علم دیا بھی نہیں جاسکتا۔یہ دوسرا مضمون بھی اس میں مخفی ہے اور بہت ہی اہمیت والا مضمون ہے۔بعض دفعہ انسان ایک سوال کر کے مزید دکھ میں مبتلا ہو جاتا ہے کیونکہ اس کا جواب اس کو اور تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے۔ایک بیٹا ہے جس کی بدکاری کے متعلق کسی کو علم نہیں ، باپ کو علم نہیں ، خدا تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈالا ہوا تھا اور نوح نے جب شک کا اظہار کیا، ایسے شک کا اظہار جو اتنا خفی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شک کے طور پر پیش کرنا بھی پسند نہ فرمایا لیکن آپس میں جو مکالمہ ہوا ہے اس کی طرز بتا رہی ہے کہ اندر کیا بات تھی ، ادب بہر حال قائم تھا اور اس وقت شک کے دوران بھی اتنا گہرا ادب تھا کہ اس ادب کے نتیجے میں اس وقت خدا نے آپ کو جاہل قرار نہیں دیا بلکہ یہ بتایا کہ آغاز اسی طرح ہوا کرتا ہے۔ایک انسان اگر اپنے سے بالا ایسے لوگوں کے فیصلے جن کا احترام لازم ہے باریک نظر سے نہ دیکھے اور شک کی گنجائش ہو تو اس کا پہلا تقاضا تو یہی ہے کہ ادب اور احترام کی وجہ سے زبان نہ کھولے اور استغفار سے کام لے اور دعا سے کام لے لیکن اگر اس سے ایسا ہو بھی جائے اور بار بار ایسا ہو تو پھر خطرہ ہے کہ انسان مزید ٹھو کر کھا جائے گا۔پس ایسے مختلف فیصلوں میں جہاں ایک مومن ایمان بھی