خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 358
خطبات طاہر جلد ۱۰ 358 خطبہ جمعہ ۲۶ اپریل ۱۹۹۱ء بے چینی سے یہ عرض کی کہ اے خدا! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے اہل کو بچاؤں گا اور میں تیرے مقاصد کو، تیرے طریق کار کو نہیں ہے کار کو نہیں سمجھ سکتا لیکن میں یہ جا یں یہ جانتا ہوں کہ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے اہل کو غرق ہوتے دیکھ لیا ہے۔ تو بہتر جانتا ہے کہ یہ کیوں ہوا ہے لیکن میرے ذہن میں ایک خلش سی پیدا ہو گئی ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو یہ جواب دیا۔ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ (هود: ۴۷) کہ اے نوٹ ! یہ تیرا اہل نہیں تھا۔ إِنَّهُ عَمَل غَيْرُ صَالِحٍ یہ بد اعمال بچہ تھا اور بداعمال اولا د نبیوں کی اولاد نہیں ہوا کرتی ۔ یعنی نبیوں کی طرف منسوب ہونے کی اہلیت نہیں رکھتی تو اھل بمعنی اہلیت کے ہے۔ محض خونی رشتے کے لحاظ سے اولاد ہونا مراد نہیں۔ تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ یہ تو غیر صالح لڑکا ہے اس کے اعمال اچھے نہیں یہ کیسے تیرا اہل ہو گیا۔ فَلَا تَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجُهِلِينَ (هود: ۴۷) فَلَا تَلْنِ پس مجھ سے مت سوال کر ایسی باتوں کے متعلق جن کا تجھے علم نہیں ہے ۔ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجِهِلِينَ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں مبادا تو جاہلوں میں سے نہ ہو جائے یعنی اگر تو نے احتیاط نہ کی تو خطرہ ہے کہ اسی نہج پر اگر آگے بڑھتا رہا تو ظالموں میں شامل ہو جائے گا اس پر حضرت نوح نے پھر بڑی بے قراری سے یہ عرض کیا رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ اسْتَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ اے میرے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں آئندہ کبھی تجھ سے ایسا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو۔ وَ إِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَسِرِينَ (صور: ۴۸) اور اگر تو نے مجھ سے بخشش کا سلوک نہ فرمایا أَكُنْ مِنَ الْخَسِرِينَ اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں یقینا گھاٹا پانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔ یہاں جو مشکل مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ جس چیز کا انسان کو علم ہواس کے متعلق تو وہ سوال ہی نہیں کرتا اور جس چیز کا علم نہ ہو اس کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو یہاں پھر یہ کیا گفتگو ہورہی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تو نے آئندہ ایسی باتوں کا سوال کیا جس کا تجھے علم نہیں تو تو ظالموں میں سے ہو جائے گا نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا اور حضرت نوح کہتے ہیں کہ میں تو بہ کرتا ہوں ۔ میں تیری پناہ میں آتا ہوں اے خدا! آئندہ کبھی میں ایسا سوال نہ کروں جس کا مجھے علم نہ ہو۔ تو یہ عجیب سا