خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 32
خطبات طاہر جلد ۱۰ 32 32 خطبہ جمعہ ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء ان عذابوں میں مبتلا نہ فرمائے جو عام طور پر ایسے حالات میں مقدر ہو جایا کرتے ہیں بلکہ غیر معمولی طور پر ان کے دلوں پر تسلط فرمائے اور ان کو تو بہ کرنے کی توفیق بخشے اور اصلاح احوال کی توفیق بخشے اور سچائی کی طرف لوٹ آنے کی توفیق بخشے۔کل عالم کے لئے یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو امن عطا کرے اور امن سے مراد صرف ظاہری امن نہیں بلکہ امن سے مراد دل اور دماغ کا امن ہے کیونکہ میں قطعی طور پر اس بات کو ایک ٹھوس حقیقت کی طرح دیکھ رہا ہوں کہ دنیا کا امن دل اور دماغ کے امن پر منحصر ہے وہ بنی نوع انسان جن کے دل امن میں نہ ہوں ، جن کے دماغ امن میں نہ ہوں ان کا عالمی ماحول امن میں نہیں رہ سکتا۔یا ان سے دنیا کو خطرہ ہوگا ی دنیا سے ان کو خطرہ ہوگا۔پس دماغ کے خلل اور دل کے خلل کے نتیجے میں بیرونی خلل واقعہ ہوا کرتے ہیں۔پس یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی سوچوں کی اصلاح فرما دے۔ان کے دلوں کی اصلاح فرمادے۔ان کے معاشرے کی اصلاح فرمادے اور ان کے دل اور دماغ کو امن عطا کرے۔تا کہ بنی نوع انسان کو بحیثیت مجموعی امن نصیب ہو۔اس موجودہ تعلق میں خصوصیت کے ساتھ یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مسلمان ممالک کو اب بھی عقل دے اور وہ اس ظلم میں غیر مسلم قوموں کے شریک نہ بنیں کہ ان کے اعلیٰ مقاصد کی خاطر جوان کے مفادات سے تعلق رکھتے ہیں ایک عظیم مسلمان طاقت کو ملیا میٹ کر دیں اور اپنے اپنے انگوٹھے اس فیصلے پر ثبت کر دیں اور تاریخ عالم میں ہمیشہ کے لئے ایک ایسی قوم کے طور پر لکھے جائیں جنہوں نے اپنی زندگی کے نہایت منحوس فیصلے کئے تھے۔ایسے فیصلے کئے تھے جو بدترین سیاہی سے لکھے جانے کے لائق بنتے ہیں۔جس کے نتیجے میں دنیا کے اندر ایسے تغیرات بر پا ہونے ہیں اور آئندہ لکھنے والا لکھے گا کہ ہو چکے کہ ان فیصلوں کے بعد پھر دنیا کا امن ہمیشہ کے لئے اٹھ گیا اور امن کے نام پر جو جنگ لڑی گئی تھی اس نے اور جنگوں کو جنم دیا اورساری دنیا میں بدامنی پھیلتی چلی گئی۔مؤرخ نے یہ باتیں جو بعد میں لکھنی ہیں یہ آج ہمیں دکھائی دے رہی ہیں کہ کل ہونے والی ہیں اگر مسلمان ممالک نے ہوش نہ کی اور بر وقت اپنے غلط اقدامات کو واپس نہ لیا اور اپنی سوچوں کی اصلاح نہ کی۔بہر حال اگر یہ انہی باتوں پر قائم رہے تو عراق مٹتا ہے یا نہیں مٹتا۔یہ تو کل دیکھنے کی بات ہے مگر اس سارے علاقے کا امن ہمیشہ کے لئے مٹ جائے گا۔کبھی دوبارہ عرب اس حال کو واپس نہیں لوٹ سکیں گے۔اسرائیل پہلے سے بڑھ کر طاقت بن کر ابھرے گا اور اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کے متعلق کوئی عرب طاقت