خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 350
خطبات طاہر جلد ۱۰ 350 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء الہام کی گئیں اور آپ کو بتایا گیا کہ میرے بندے ابراہیم علیہ السلام نے اسی طرح لق و دق صحرا میں یہ دعائیں کی تھیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دعا ئیں بہت ہی قیمتی خزانہ ہیں اور جن لوگوں کے لئے ان دعاؤں کو محفوظ کیا گیا اگر وہ ان سے فائدہ نہ اٹھا ئیں تو کتنی بدنصیبی ہوگی۔پس دنیا کے خزانوں کے پیچھے تو لوگ بہت محنت کرتے ہیں مگر وہ خزا نے جو قرآن میں مدفون ہیں ان پر سے سرسری نظر سے گزر جاتے ہیں حالانکہ اگر ان میں ڈوب کر دیکھیں تو جو چیزیں بظاہر دلچسپی کا موجب نہ بھی دکھائی دیتی ہوں غور کرنے کے بعد ان میں سے نئی نئی لذت کے مضامین نکلتے ہیں اور انسان کے دل پر قبضہ کر لیتے ہیں۔اب اس سلسلے میں حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والوں کی یہ دعا میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو قرآن کریم نے سورہ یونس آیت ۸۶-۸۷ میں بیان فرمائی ہے۔فَقَالُوا عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّلِمِينَ وَنَحْنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الكفرين حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم سے کہا کہ خدا پر ایمان لے آؤ تو ان میں سے جوایمان لے آئے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَقَالُوا عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا اس موسیٰ پر ایمان لانا تو بہت مشکل ہے اور تھا بھی وہ فرعون کا زمانہ اور ایسا جابر فرعون کہ جس کا ذکر بحیثیت ایک جابر فرعون کے تاریخ میں محفوظ ہے اور خود وہ اپنے جبر کا احساس رکھتا تھا وہ یہ سمجھتا تھا کہ میرے سوا عبادت کے لائق کوئی چیز ہی نہیں ہے۔اس وقت حضرت موسیٰ کی آواز پر یہ کہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں بہت بڑا دعویٰ ہوتا اور یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جیسے کوئی یہ کہے کہ ہم اس دنیا سے کلیہ مر مٹنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔پس اس لئے انہوں نے آغا ز ہی میں یہ کہا فَقَالُوا عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا مشکل کام ہے لیکن جس خدا پر توکل کر کے ہم آگے بڑھ رہے ہیں وہ بچانے والا بھی ہے وہ ہر ظالم کے اوپر غالب آسکتا ہے، ہر جابر سے بڑھ کر طاقتور ہے۔رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةٌ لِلْقَوْمِ الظَّلِمِينَ اے خدا ہمیں ظالموں کی قوم کے لئے فتنہ نہ بنانا۔یہاں فتنہ کا مضمون بہت دلچسپ رنگ میں دہرے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔قرآن کریم میں فتنہ، دین کے زبر دستی بدلنے کو بھی کہتے ہیں۔قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ اگر جبر کے ذریعے تکلیفیں دے کر کسی کو اس کا دین بدلنے پر مجبور کیا جائے تو اس کو فتنہ کہا جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم