خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 345 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 345

خطبات طاہر جلد ۱۰ 345 خطبہ جمعہ ۱۹ راپریل ۱۹۹۱ء سوال ہے۔ہم نے سچائی دیکھی اور ایمان لے آئے اس پر فرعون نے کہا اچھا! اگر یہ بات ہے تو میں تمہیں اس قدر درد ناک عذاب دوں گا کہ ایک طرف سے تمہارے بازو کاٹوں گا اور دوسری طرف سے ٹانگیں کاٹوں گا اور تمہیں ہمیشہ کے لئے ذلیل ورسوا کر کے اور بے کار کر کے پھینکوا دوں گا اور دنیا میں جو تکلیف دی جاسکتی ہے وہ تمہیں دوں گا۔اس پر انہوں نے فرعون سے کہا۔فَاقْضِ مَا انْتَ قَاضِ (طه :۷۳) جو کچھ تو دنیا میں فیصلے کر سکتا ہے کر گزر۔جو عذاب دے سکتا ہے دے۔ہم تو سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آئے ہیں اور ان مشکل حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جو ان کو نظر آ رہے تھے انہوں نے یہ دعا رَ بَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِینَ کہ اے خدا! ہم پر مبر نازل فرما، تیری طرف سے جب تک صبر کی توفیق نہ ملے ہم اپنی کوشش سے صبر نہیں کرسکیں گے اور اگر ہمیں مارنا ہی ہے تو مسلمان ہونے کی حالت میں مارنا۔موت کے ڈر سے کافر ہونے کی حالت میں زندہ نہ رکھنا۔حضرت ہارون کو جب حضرت موسی نے جانشین بنایا اور ان کی قوم کا اکثر حصہ بگڑ گیا اور بچھڑا بنالیا تو حضرت موسیٰ واپس لوٹے۔یہ واقعہ آپ نے قرآن کریم میں بار ہا پڑھا ہوگا کہ کس قدر غضب کی حالت میں تھے اور یہاں تک کہ حضرت ہارون کو ذمہ دار گردانا اور ان سے سختی سے جواب طلبی کی۔اس پر حضرت ہارون نے اپنے بزرگ تر بھائی کو سمجھایا کہ میں تو بالکل بے قصور ہوں۔مجھ میں تو طاقت ہی نہیں تھی کہ ان جاہلوں کو روک سکتا میں نے کوشش کی مگر انہوں نے اپنی ضد کی اور توحید سے دوبارہ شرک کی طرف مائل ہو گئے۔تب حضرت موسی نے یہ دعا کی: رَبِّ اغْفِرْلِی وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَأَنْتَ اَرْحَمُ الرَّحِمِینَ (الاعراف :۱۵۲) اے میرے رب ! مجھے بھی بخش دے اور میرے بھائی کو بھی بخش دے۔وَادْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما۔حضرت موسی کی اس دعا میں اور پہلی دعا میں یہ فرق ہے کہ یہاں اپنا رب کہہ کر دعا کی یہ درخواست پیش کی ہے۔پہلے ہم دونوں کے رب یا ہمارے رب کے طور پر خدا سے التجا مانگی تھی۔یہاں چونکہ حضرت موسی خدا کی طرف سے لوٹے تھے یعنی خدا کے ساتھ خاص لقاء کے بعد لوٹے تھے اور حضرت ہارون کا معاملہ وہاں مشکوک بنا ہوا تھا کہ آپ کس حد تک ذمہ دار ہیں ، کس حد تک نہیں تو آپ نے اپنے حوالے سے دعا مانگی کہ مجھے تو تو جانتا ہے کہ میں تیری طرف سے لوٹ کے آیا ہوں۔