خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 344
خطبات طاہر جلد ۱۰ 344 خطبہ جمعہ ۱۹ ار اپریل ۱۹۹۱ء موسیٰ علیہ السلام نے اصرار کیا کہ میری قوم کو نکلنے دو، ان فلموں سے نجات بخشو ، اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ اس ملک کے برابر کے شہری نہیں تو ان کو ملک چھوڑ نے دو تو فرعون نے کہا میں یہ بھی نہیں کروں گا۔جوز ور لگا سکتے ہو گا ؤ اس پر بالآخر مقابلہ روحانی مقابلے تک پہنچا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون نے یہ کہا کہ تم جو الہی نشانات دکھاتے پھرتے ہو میرے نزدیک تو یہ محض دھوکا اور جادوگری ہے اس لئے کیوں نہ تمہارا تمہارے جیسوں سے مقابلہ کرا دیا جائے اور دنیا دیکھ لے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔چنانچہ فرعون نے یہ منادی کرائی کہ جو اس ملک کی چوٹی کے جادو گر ہیں وہ اکٹھے ہو جائیں اور لوگ بھی فلاں دن جو کہ خوشیاں منانے کا ایک دن تھا، اس دن اکٹھے ہوں کیونکہ اس دن ایک جادوگر کا دوسرے جادوگروں سے مقابلہ ہونا ہے۔اس کی ساری تفاصیل قرآن کریم میں موجود ہیں مختصر آ یہ بتا تا ہوں کہ جادو گر جب حضرت موسیٰ" کے مقابلے کے لئے حاضر ہوئے تو فرعون نے ان سے مخاطب ہو کے کہا کہ بتاؤ کیا چاہتے ہو؟ اس کے مقابل پر ہم سے کیا لو گے ؟ تو انہوں نے فرعون کا قرب نہیں مانگا۔انہوں نے فرعون سے دنیاوی انعام مانگے۔یہ بڑی دلچسپ بات ہے۔خدا کے نیک بندے جب خدا سے انعام مانگتے ہیں تو قرب الہی مانگتے ہیں۔انبیاء سے کوئی چیز مانگتے ہیں تو ان کا قرب مانگتے ہیں۔فرعون نے معلوم ہوتا ہے اس میں سبکی محسوس کی۔اس نے کہا اچھا یہ انعام تو میں دوں گا ہی اور تمہیں مقرب بھی بنالوں گا حالانکہ مقرب بنے کی کوئی التجا ہی انہوں نے نہیں کی تھی۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے دل میں فرعون کی کوئی محبت نہیں تھی ، فرعون کی کوئی عظمت نہیں تھی اور غالباً یہی وجہ ہے کہ وہ پھر ہدایت یافتہ بھی ہو گئے اگر فرعون یا اس کے دین سے گہری محبت ہوتی اور اس کی عظمت دلوں میں بیٹھی ہوتی تو شاید اتنی آسانی سے ہدایت نہ پاتے۔بہر حال جب انہوں نے خدا تعالیٰ کا نشان دیکھا اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کے شعبدوں پر ایک عظیم الشان فتح عطا ہوئی۔تو فرعون کی طرف متوجہ ہوئے بغیر وہ ایمان لے آئے اور اسی وقت انہوں نے یہ دعا کی رَبَّنا افرغ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِینَ کہ اے خدا! اے ہمارے رب! ہم پر مبر نازل فرما۔وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِینَ اور ہمیں مسلمین میں وفات دینا۔اس دعا کی وجہ یہ بنی کہ ان کے ایمان پر فرعون بہت بگڑا اور ان کو بہت دھمکیاں دیں اور یہ کہا کہ تم میری اجازت کے بغیر کس طرح ایمان لے آئے ہو۔اس پر انہوں نے کہا کہ اجازت کا کیا