خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 343 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 343

خطبات طاہر جلد ۱۰ 343 خطبہ جمعہ ۱۹ راپریل ۱۹۹۱ء متوجه مذہب میں واپس لوٹ آؤ یا پھر ہم تمہیں ملک بدر کر دیں گے اور تمہیں اپنے وطن میں بھی رہنے کا حق نہیں رہے گا۔اس پر حضرت شعیب علیہ السلام نے جو جواب دیا وہ ایک دعا تھی جو اپنے رب سے مخاطب ہوکر کی۔قوم یہ دھمکی دے رہی تھی اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ قوم کی بات کو بھلا کر وہ اپنے کی طرف ہوئے اور عرض کیا کہ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا عَلَى اللهِ تَوَكَلْنَا (الاعراف: ۹۰) اللہ کا علم ہر چیز پر وسیع ہے۔عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا ہمارا تو کل تو اللہ پر ہے نہ کہ کسی قوم کے سہارے پر ، نہ اکثریت پر نہ دنیا وی طاقت پر، رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَتِحِيْنَ (الاعراف :۹۰) اے خدا اب اس قوم اور ہمارے درمیان تو فیصلہ فرما کیونکہ ہمیں تو اب فیصلے کی کوئی طاقت نہیں اور تو حق کے ساتھ فیصلہ فرما۔وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَرِحِينَ اور سب فیصلہ کرنے والوں سے تیرا فیصلہ بہتر ہوا کرتا ہے۔پس وہ قوم جو دین کی راہ میں ستائی جائے اور اسے دھمکی دی جائے کہ یا تم ہمارے اندر واپس لوٹ آؤ ورنہ ہم تمہیں ملک بدر کر دیں گے، ان کے لئے یہ بہت ہی موزوں دعا ہے اور ان کے حالات پر اطلاق پاتی ہے۔ملک بدر کرنے کا جو مضمون ہے اس کے متعلق یہ ذہن نشین کریں کہ ضروری نہیں ہوا کرتا کہ کسی کو وطن سے نکال کر ملک بدر کیا جائے اس کے شہری حقوق چھین کر بھی اس کو ملک بدر کیا جاسکتا ہے پس مختلف ادوار کے مختلف انداز ہوا کرتے ہیں اس جدید دور میں ملک بدر کرنے کا ایک طریق یہ ہے کہ ملک میں رکھتے ہوئے شہری حقوق سے محروم کر دیا جائے اور یہ واقعہ کوئی نیا نہیں ، اس سے پہلے بھی ہو چکا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بھی فرعون نے اس طرح موسیٰ کی قوم کو ملک بدر کیا تھا کہ جسمانی طور پر باہر نکلنے نہیں دیتا تھا اور شہری حقوق سارے چھین لئے تھے۔پس یہ ملک بدر کرنے کی ذلیل ترین صورت ہے کہ نجات حاصل کرنے کے لئے جو باہر بھاگنا چاہے اس کی راہ میں روکیں ڈالو، اس کو سزائیں دو۔قید کرو کہ تم نکلنے کی کوشش کیوں کرتے ہو اور ملک میں رکھتے ہوئے اس کے سارے حقوق چھین لو۔پس یہ جو فرعونی دور ہے اس کا ملک بدر کرنا سب سے زیادہ خوفناک اور تکلیف دہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اور اپنے تمام مظلوم بندوں کو اس قسم کے ظلموں سے نجات بخشے۔اس وقت جب حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کو فرعون نے نکلنے نہ دیا اور حضرت