خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 341

خطبات طاہر جلد ۱۰ 341 خطبہ جمعہ ۱۹ راپریل ۱۹۹۱ ء رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخُسِرِينَ ( ملفوظات: جلدم، صفحه ۲۷۵) چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو روحانی طبیب بنا کر بھجوایا گیا تھا اس لئے معلوم ہوتا ہے اس دعا کا اس دور کے ساتھ گہرا تعلق ہے جب میں نے غور کیا تو مجھےسمجھ آئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ایک نئے دور کا آدم قرار دیا گیا اور یہ وہ دور خسروی ہے جبکہ اسلام کو دنیا میں از سرنو زندہ بھی کیا جائے گا اور غالب بھی کیا جائے گا۔تبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ایک شعر میں اپنے آپ کو آدم قرار دیتے ہیں۔پس اس دعا کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے بڑا گہرا تعلق ہے کیونکہ ایک نئے آدم کے دور کے ساتھ اس دعا کا تعلق ہے۔اس نئے دور میں اس دعا کی مدد سے داخل ہوں اور یہ دعا پڑھتے ہوئے داخل ہوں کہ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا اگر تو نے مغفرت نہ فرمائی وَتَرْحَمْنَا اور ہم پر رحم نہ فرمایا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخُسِرِينَ تو یقیناً گھاٹا پانے والوں میں سے ہوں گے اس دعا میں لفظ الخُسِرِینَ کا بھی دور آخر سے گہرا تعلق ہے کیونکہ قرآن کریم میں سورہ عصر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْعَصْرِفُ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرِفْ اس زمانے سے خبر دار ہو جاؤ۔اس زمانے کا خیال کرو جبکہ انسان بحیثیت مجموعی گھاٹا پانے والوں میں سے ہوگا انسان گھانا کھائے گا یعنی تمام عالم کا یہ حال ہوگا۔تمام دنیا گھاٹا کھانے والی دنیا ہو جائے گی۔پس ان دعاؤں کا مضمون ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہوتا ہے اور بڑے گہرے آپس کے تعلقات ہیں جو سرسری نظر سے دکھائی نہیں دیتے لیکن جب آپ ذرا ڈوب کر ان کا مطالعہ کریں تو آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ روحانی نظام بھی بہت گہرا مر بوط نظام ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ اس کا تعلق چل رہا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اپنی جماعت کو اس دعا کی طرف متوجہ فرمایا تو یونہی نہیں کہ دل میں یہ خیال آگیا کہ چلو یہ بھی دعا کر لیا کرو بلکہ اپنے آدم ہونے کے اعتبار سے اور قرآن کریم کی اس خبر کے اعتبار سے کہ یہ زمانہ گھاٹا کھانے والوں کا زمانہ ہے، یہ دعا جماعت احمدیہ کے لئے نہایت ہی اہم ہے اور ہماری بقا کے لئے بہت ہی ضروری ہے۔ایک اور دعا سے پتا چلتا ہے کہ دعاؤں کا سلسلہ صرف اس زندگی سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ