خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 325 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 325

خطبات طاہر جلد ۱۰ 325 خطبہ جمعہ ۱۲ اراپریل ۱۹۹۱ء زکریا کی تحویل میں ان کی تربیت کے لئے دیا تھا تو حضرت زکریا وقتا فوقتا حجرے میں ان کا حال پوچھنے جایا کرتے تھے اور وہاں مختلف قسم کے رزق دیکھتے تھے۔عام طور پر مفسرین یہ کہتے ہیں کہ غیب سے بغیر کسی انسانی واسطے کے وہاں کئی قسم کے تھے پہنچے ہوتے تھے لیکن حضرت زکریا کی دعا سے پتا چلتا ہے کہ یہ بات نہیں تھی کچھ اور بات تھی۔حضرت مریم“ کو نیکی کی وجہ سے کچھ لوگ تو جیسا کہ دنیا میں رواج ہے دعائیں لینے کے لئے محبت کے اظہار کے لئے تحائف پیش کیا کرتے تھے اور چونکہ حضرت مریم اسے اپنی ذاتی خوبی نہیں سمجھا کرتی تھیں ہمیشہ پوچھنے پر یہ کہا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق ہے میرا تو اس میں کچھ نہیں ہے۔نہ میں نے مانگا نہ توقع کی۔لوگوں کے دلوں میں خدا نے خود محبت پیدا فرما دی۔اور پھر وہ مجھے جو پیش کرتے رہتے ہیں تم دیکھ رہے ہو اور دوسری مراد یہ تھی کہ اس رزق سے کہ روحانی رزق پاتے تھے۔خدا ان سے رحمت اور مغفرت کا بھی سلوک فرماتا تھا اور ان پر کشوف کے ذریعے یا الہامات کے ذریعے یا کچی رؤیا کے ذریعے رجوع برحمت ہوتا تھا۔اپنی رحمت کا بار بار ا ظہار فرماتا تھا تو جس طرح عام طور پر بعض نیک گھروں میں مشاہدے میں بات آتی ہے کہ بعض بچوں سے پوچھا جاتا ہے کہ بتاؤ کیا خواب دیکھی؟ کیا خدا کی طرف سے رحمت کا نشان ملا ؟ تو وہ نئی نئی باتیں بتاتے ہیں تو حضرت مریم بھی اپنی معصومیت اور بھول پن میں اس وقت جو بھی گزشتہ رات کے واقعات ہوا کرتے تھے وہ بتایا کرتی تھیں کہ خدا نے مجھ سے یہ فرمایا۔مجھ سے یہ فرمایا۔اس طرح رحمت کا سلوک فرمایا۔اس طرح پیار کا اظہار فرمایا تو حضرت زکریا جو خود نبی تھے وہ رشک کرتے تھے۔رشک اس بات پر نہیں کرتے تھے کہ مجھے مریم کی طرح کچھ عطا نہیں ہوا۔رشک اس بات پر کرتے تھے کہ مریم" ایک ماں کی دعا کا نتیجہ ہے اور اس دعا کے نتیجے میں پاک اولاد ہے۔میں پاک اولاد سے محرو م ہوں کاش! میں بھی یہ فخر کر سکوں کہ میری اولا د بھی اس طرح نیک ہو اور اس طرح خدا سے رزق پانے والی ہو۔اگر یہ مضمون درست نہ ہو تو اگلی دعا کا اس سے تعلق ہی کچھ نہیں بنتا تو در حقیقت یہی وہ بات تھی جس نے حضرت زکریا کو خدا سے یہ دعا کرنے کی طرف متوجہ کیا۔هنالك دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاء ( آل عمران : ۳۹) اس وقت جب حضرت زکریا نے یہ کیفیت دیکھی تو دل سے اک ہوک اٹھی اور اپنے رب سے اس نے عرض کیا : رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً اے خدا! مجھے