خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 324 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 324

خطبات طاہر جلد ۱۰ 324 خطبہ جمعہ ۲ اراپریل ۱۹۹۱ ء سر دست ختم کرتا ہوں لیکن یہ ایسا مضمون ہے جسے بہر حال قسطوں میں جاری رکھنا پڑے گا کیونکہ جب اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا کی گفتگو چل پڑی ہے اور صِرَاطَ الَّذِينَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کی باتیں شروع ہو گئیں تو جماعت کو جب تک یہ نہ پتہ چلے کہ وہ رستہ کیا تھا ؟ کس طرح اس رستے پر چلنے کی ان کو توفیق ملے گی؟ کس طرح اس رستے پر چل کر وہ صاحب انعام لوگ بنیں گے؟ اس وقت تک خالی منہ سے یہ باتیں کہ دینا بے معنی بات ہے، بے معنی نہ سہی، برکتیں کچھ نہ کچھ تو ملتی ہوں گی لیکن جتنی برکتوں کی توقع کی جاسکتی ہے وہ برکتیں اس طرح نصیب نہیں ہوسکتیں جب تک اس دعا کی ذیل میں وہ دعائیں ہی معلوم نہ ہوں جو دعائیں کرتے ہوئے خدا کی راہ میں چلنے والے قافلے عمر بھر اپنا سفر طے کرتے رہے اور ہمیشہ کامیابی کے ساتھ سفر طے کیا۔ان دعاؤں کے سہارے ان کو ہر ٹھوکر سے بچایا گیا۔ہر ابتلاء سے وہ سرخرو ہوکر نکلے اور خدا کے حضور مکرم اور محترم ٹھہرے۔خدا نے خود ان کی حمد بیان فرمائی اور خدا کے فرشتوں نے بھی ان پر درود بھیجے۔یہ وہ رستہ ہے جس کا تفصیل سے جماعت کو علم ہونا چاہئے لیکن آخر پر میں حضرت زکریا کی یہ دعا آپ کے سامنے رکھتا ہوں کیونکہ آج کل خاص طور پر مجھے بہت سی خواتین کے اور بعض مردوں کے بھی خط مل رہے ہیں کہ اس رمضان میں خاص طور پر ہمارے لئے بیٹے کی دعا کرنا۔ان خطوں کا حضرت زکریا کی دعا سے ایک گہرا تعلق اس لئے بھی ہے کہ یہ وقف نو میں شمولیت کے شوق رکھنے کے نتیجے میں دعاؤں کے خط لکھ رہے ہیں۔اکثر خط یہ ہیں کہ ہماری شدید تمنا ہے کہ ہم بھی وقف نو کی تحریک میں شامل ہو جا ئیں اگر چہ وقت گزر چکا ہے لیکن خدا کے لئے ہمیں شامل کر لیں اور دعائیں کر کر کے شامل کروائیں۔ایک صرف شامل کرنے کی درخواست نہیں ہے بلکہ اونٹ بھی دیں ،سامان بھی دیں اور پھر اس کو لا د بھی دیں تو یہ اکیلے میرے بس کی بات نہیں ہے ساری جماعت اس دعا میں ساتھ شامل ہو، مدد کرے تو پھر اللہ تعالیٰ جس پر رحم فرمائے اس پر رحم ہوگا اور خدا ان مخلصین کی جھولیاں پھر اپنی رحمتوں سے بھر دے گا اور پھر وہ ان جھولیوں کو بھر بھر کر دوبارہ خدا کے حضور پیش کریں گے۔حضرت زکریا کی دعا کا آغاز اس طرح ہوا کہ قرآن کریم بیان فرماتا ہے کہ وہ جب بھی حضرت مریم کے حجرے میں آپ کا حال پوچھنے جایا کرتے تھے۔حضرت مریم نے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ان کی والدہ نے ان کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کو وقف کر دیا گیا تھا اور بعد میں حضرت