خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 320 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 320

خطبات طاہر جلد ۱۰ 320 خطبہ جمعہ ۱۲ / اپریل ۱۹۹۱ء الله ۔ عند الله ۔ یہ سب کچھ خدا ہی کی طرف سے ہے۔ اس لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ آپ بغیر اس مضمون کو سمجھے اگر یہ دعا کرتے رہیں کہ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا جیسا کہ بعض کتب میں قرآنی دعائیں لکھی ہوئی ہیں اور پس منظر بیان نہیں ہوا تو ہو سکتا ہے کہ آپ کی دعا کا تیر خالی چلا جائے اور آپ کو علم نہ ہو کہ کیوں خطا ہوا۔ کیوں نشانے پر نہیں بیٹھا۔ فرمایا یہ دعا ان لوگوں کی طرف سے مقبول ہوتی ہے جو متشابہات پر بھی ایمان لاتے ہیں اور محکمات پر بھی ایمان لاتے ہیں قرآن کریم کی آیات ہوں یا محمد رسول الله علی کا للہ ﷺ کا کلام ہو یا دوسرے اولوالامر کی اطاعت کا مسئلہ ہو یہ سلوک نہ کرنے والے ہوں کہ جو بات کھلی کھلی دلیل کے ساتھ سمجھ آجائے اس پر تو شرح صدر کے ساتھ ایمان لے آئیں اور جہاں ذرا بھی شک کا کوئی پہلو دیکھیں وہاں شکوک میں مبتلا ہو جائیں ، تو ہمات میں مبتلا ہو جائیں۔ شاید یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی، شاید یہ بات پوری نہیں ہوئی یہاں زیادہ سختی ہو گئی ہے۔ یہاں ہمارے مزاج کے خلاف بات ہوگئی ہے۔ یہ متشابہات ہیں تو فرمایا اگر تم متشابہات پر ایمان نہیں لائے اور یہ متشابہات کو شرح صدر کے ساتھ قبول نہیں کرتے نبول نہیں کرتے ۔ اگر میٹھا میٹھا کھانے کی عادت ہے اور ہلکا سا مزا بدلے تو تھوک دینے کے عادی ہو تو پھر یہ دعا کرتے ہوئے ہمارے حضور حاضر نہ ہونا ۔ ہم تو یہ دعا تمہیں ایسے لوگوں کی دعا کے طور پر بتا رہے ہیں جو راسخون فی العلم تھے۔ جو محکمات پر بھی کامل ایمان لاتے تھے اور متشابہات پر بھی کامل ایمان لاتے تھے۔ پھر وہ کیا کہتے رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا اب دیکھیں کتنی موزوں اور برمحل دعا ہے اور اس کا پس منظر جاننا کیوں ضروری ہے۔ دعا یہ ہے کہ اے خدا ! ہمارے دلوں کو ایک دفعہ ہدایت دینے کے بعد ٹیڑھا نہ کرنا یا ٹیڑھا نہ ہونے دینا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنْكَ رَحْمَةً اپنے حضور سے ہمیں رحمت عطا فرمانا۔ ہم سے رحمت کا سلوک کرنا إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ یقینا تو بہت ہی زیادہ رحمت کا اور موہبت کا بخشش اور پیار کا سلوک کرنے والا ہے ۔ اب یہ دعا ان لوگوں کے حق میں قبول نہیں ہوسکتی جو ہر اس مقام پر جہاں دل ٹیڑھے ہونے کے احتمالات پیدا ہوتے ہیں۔ ٹھوکر کھا جاتے ہیں اور خود اپنے دلوں کو ٹیڑھا ہونے دیتے ہیں۔ فرمایا جو راسخون فی العلم ہیں وہ ایسا نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود جانتے ہیں کہ خدا سے طاقت پائے بغیر وہ ان ابتلاؤں سے صحیح سالم گزر نہیں سکتے ۔ ان کو دعاؤں کی پھر بھی ضرورت ہے۔ پس متشابہات سے ٹھوکر نہیں کھاتے لیکن جانتے ہیں کہ تھے ۔ ر