خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 313 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 313

خطبات طاہر جلد ۱۰ 313 خطبہ جمعہ ۱۲ ار ا پریل ۱۹۹۱ء تشریف لے گئے جو بیماری سے اس طرح کھوکھلا ہو چکا تھا جیسے کسی چوزے کے پر نوچ لئے گئے ہوں اور وہ بالکل نڈھال ہو چکا ہو، آپ نے اس سے پوچھا کیا تم خدا سے کوئی خاص دعا کرتے ہو، اس نے عرض کی : ہاں ! میں دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ ! تو نے جو عذاب مجھے قیامت کے روز دینا ہے وہ مجھے اس دنیا میں دیدے۔آپ نے فرمایا۔سبحان اللہ ! تم اس کی طاقت نہیں رکھ سکتے۔کیسا پیارا کلام ہے۔کیسا دل کی گہرائیوں تک اتر جانے والا کلام ہے سبحان اللہ ! تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔خدا سے ایسی دعا نہ مانگا کرو کہ جس کی تم میں طاقت نہ ہو ، تم برداشت نہ کر سکو۔فرمایا: یہ دعا کیوں نہ کی۔رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ سارى باتیں اس میں آگئیں۔جس عذاب آخرت سے ڈرتے ہوئے تم دعا مانگ رہے تھے اس کا تو اس دعا میں ذکر موجود ہے۔یہ دعا مقبول ہو جائے تو عذاب آخرت کہاں ؟ لیکن اس کے ساتھ یہ دنیا کی حسنات بھی دیتی ہے اور آخرت کی حسنات بھی دیتی ہے۔پس یہ دعائیں ہیں۔ان کا ایک پس منظر ہے۔کس طرح خدا کے پاک بندوں نے ان کی حکمتوں کو سمجھا، کس طرح ان کے متعلق تلقین فرمائی۔جب بھی آپ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کہنے کے بعد یہ مشکل دعا مانگتے ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم تو پھر ان لوگوں کی دعائیں بھی تو ساتھ مانگا کریں اور بعینہ سورہ فاتحہ کے بعد ان دعاؤں کے لئے قرآن کریم کی آیات پڑھنے کا وقت آجاتا ہے تو ایسی آیات کا انتخاب کریں جن آیات میں ایسی دعائیں ہوں اور دعاؤں کے مضمون کو اگر آپ سمجھ جائیں تو ہر ضرورت کے لئے ہر مشکل کے لئے ہر خواہش جو نیک خواہش ہے اس کو پورا کرنے کے لئے آپ کو قرآن کریم میں کوئی نہ کوئی مناسب حال دعا مل جائے گی۔اگر اس کے پس منظر کو سمجھ جائیں تو پھر دل میں درد پیدا ہوگا۔سوز پیدا ہوگا اور آپ کی دعاؤں میں ایک نئی زندگی پیدا ہو جائے گی۔وہ ایسے چوزے کی طرح کی دعائیں نہیں ہوں گی جس کے پر نوچے جاچکے ہوں ،ایسے پرندے کی طرح دعائیں ہوں گی جو اڑنے کی سکت رکھتا ہو اور بلند پروازی جانتا ہو اور بلند پروازی کی طاقت رکھتا ہو۔پھر ایک دعا ہے جو حضرت طالوت جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ جدعون تھے ، ان کی دعا قرآن کریم نے محفوظ فرمائی ہے۔جب وہ جالوت کی فوجوں کے ساتھ مقابلے کے لئے نکلے تو جالوت