خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 300
خطبات طاہر جلد ۱۰ 300 خطبه جمعه ۵/ اپریل ۱۹۹۱ء الله اس کے ذہن میں گھومتے ہیں یہ نہیں کہ ہر دفعہ جب ہم اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہتے ہیں تو سارے واقعات اچانک گھوم جاتے ہیں لیکن مختلف کیفیات میں مختلف حالتوں میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ضرور ہے جو ان حالتوں سے تعلق رکھتا ہے اور ان پر چسپاں ہوتا ہے اس وقت کی دعا کے وقت وہ واقعۂ نظر کے سامنے ابھرنا چاہئے اور ہر چیز کے پیچھے ایک تاریخ ہے پس جب یہ فرمایا گیا کہ وہ لوگ زخمی ہونے کے باوجود تیری آواز پر لبیک کہتے ہیں تو ایک ایسا ہی واقعہ جنگ احد کے وقت گزرا ہے وہ ایسا واقعہ ہے جس کی تاریخ میں شاید کوئی مثال دکھائی نہ دے۔آنحضرت ﷺ کے ایک عاشق صحابی (حضرت سعد بن ربیع ) جب ایک عرصے تک دکھائی نہیں دیئے اور آپ ان کے دل کی کیفیت سے باخبر تھے تو آپ نے کسی سے کہا کہ تلاش کرو اور دیکھو کہ کہاں ہے؟ اس نے آواز میں دیں، اس نے تلاش کیا لیکن کوئی جواب نہیں پایا آخر جب اس نے یہ آواز دی کہ خدا کا رسول تجھے بلا رہا ہے تو زخمیوں اور لاشوں کے ڈھیر کے نیچے سے ایک کراہتی ہوئی آواز اٹھی۔میں حاضر ہوں، میں یہاں ہوں ، وہ جو پہلے اتنی طاقت نہیں رکھتا تھا کہ جواب دے سکتا جب اس کے کان میں یہ آواز پڑی کہ محمد رسول اللہ ﷺ مجھے تلاش کر رہے ہیں اور ان کے کہنے پر میں آیا ہوں تو خدا جانے کہاں سے اس نے وہ طاقت اکٹھی کر لی اور لبیک لبیک کی آواز اٹھی۔تب اس نے یہ عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ آخری سانس آنحضرت ﷺ کے قدموں میں لوں۔مجھے وہاں تک پہنچا دو۔پس اس حالت میں اس نے جان دی کہ اس کا سر محمد رسول اللہ اللہ کے مقدس قدموں میں پڑا ہوا تھا۔پس قرآن کریم جن راہوں کو انعام پانے والوں کی راہیں قرار دیتا ہے یہ کوئی افسانوی را ہیں نہیں ہیں۔یہ تاریخی حقیقوں سے تعلق رکھنے والی راہیں ہیں۔ان راہوں پر خدا کے پاک بندے چلے ہیں اور ان کے ذکر سے قرآن کریم منور ہے۔پس جب ہم یہ دعا مانگتے ہیں تو ذہن میں ایسے وجودوں اور ایسی قربانی کرنے والوں کے تصورات بھی زندہ ہونے چاہئیں۔یہ قربانی کرنے والوں کے تصورات ہیں جو ہماری دعاؤں کو زندہ کریں گے ان سے خالی دعا ئیں خالی رہیں گی۔ذکر کے ساتھ ذکر میں جان پڑتی ہے۔پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا کے ساتھ ان تمام پاک بندوں کا ذکر ہمارے ذہن میں گردش کرنا چاہئے ہمارے قلوب میں اس ذکر کے ساتھ ایک