خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 26
خطبات طاہر جلد ۱۰ 26 خطبہ جمعہ ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء اب میں ایک تیسرے حصے کی طرف آتا ہوں۔عراقی موقف اور مغربی موقف میں نے بیان کیا دوسرے مسلمان ممالک نے بھی ایک موقف اختیار کیا ہے اور اکثریت نے سعودی عرب کے اس موقف کا ساتھ دیا ہے کہ اس موقعہ پر ضروری ہے کہ سب مسلمان ممالک مل کر یا زیادہ سے زیادہ تعداد میں مسلمان ممالک مل کر عراق کو مٹانے کا تہیہ کریں اور اس کوشش میں اکٹھے ہو جائیں لیکن صرف یہیں تک بات نہیں رہتی۔اس سے آگے بڑھ کر یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ یہ ارض حجاز مقدس زمین ہے اور مکہ اور مدینہ کی مقدس بستیاں یہاں موجود ہیں۔آج صرف کویت کا مسئلہ نہیں ہے آج مسئلہ ان بستیوں کی حفاظت کا مسئلہ ہے۔ان بستیوں کے تقدس کی حفاظت کا مسئلہ ہے۔جن میں کبھی حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺے سانس لیا کرتے تھے۔وہاں آپ کے قدم پڑا کرتے تھے۔پس اسے بہت ہی نقدس کا رنگ دے کر عام مسلمانوں کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے۔چنانچہ پاکستان کی طرف سے بار بار اسی قسم کے اعلان ہوئے ہیں کہ اب ہم نے ارض مقدس کی حفاظت کے لئے دو ہزار سپاہی بھجوادیئے ، تین ہزار سپاہی بھجوا دئیے ، پانچ ہزار سپاہی بھجوا دئیے اور ارض مقدس کے نام پر ہم یہ عظیم قربانی کر رہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ارض کی اپنی تاریخ کیا ہے؟ اور وہ لوگ جو ارض مقدس کا نام لے کر اورمحمد مصطفی عملے کے تقدس کے حوالے دے کر مسلمانوں کی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کا اپنا کیا کردار رہا ہے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ سعودیوں نے یعنی اس خاندان نے سب سے پہلے خود ارض حجاز پر بزور شمشیر قبضہ کیا تھا اور ا۱۸۰ء میں سب سے پہلے یہ فوجی مہم شروع کی گئی اور اس خاندان کے جو سر براہ تھے ان کا نام عبدالعزیز تھا۔لیکن عبدالعزیز کے بیٹے سعود تھے جو دراصل بڑی بڑی فوجی کارروائیوں میں بہت شہرت اختیار کر گئے اور بڑی مہارت رکھتے تھے۔چنانچہ ان کی سر براہی میں ان حملوں کا آغاز ہوا۔سب سے پہلے انہوں نے عراق میں پیش قدمی کی اور کربلائے معلیٰ پر قبضہ کیا وہاں کے تمام مقدس مزاروں کو ملیا میٹ کر دیا یہ موقف پیش کرتے ہوئے کہ یہ سب شرک کی باتیں ہیں اور ان میں کوئی تقدس نہیں ہے، اینٹ پتھر کی چیزیں ہیں۔ان کو مٹادینا چاہئے اور پھر کر بلائے معلیٰ میں بسنے والے مسلمانوں کا جواکثر شیعہ تھے قتل عام کیا اور پھر بصرہ کی طرف پیش قدمی کی اور کربلائے معلیٰ سے لے کر بصرہ تک کے تقریباً تمام علاقے کو تاخت و تاراج کر کے وہاں شہروں کو آگئیں لگادی گئیں