خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 294
خطبات طاہر جلد ۱۰ 294 خطبہ جمعہ ۵ اپریل ۱۹۹۱ء فرمائی گئی ہیں جو خدا سے باندھے ہوئے عہدوں کو پورا کرتے ہیں اور الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ پر چلتے ہیں اور انعام یافتہ میں شمار ہوتے ہیں ، اور روزمرہ کی زندگی کی عام باتیں ہیں جن میں ہم میں سے اکثر ٹھوکر کھاتے اور ان معمولی معمولی عام معروف باتوں پر بھی عمل کرنے کی اہلیت نہیں پاتے۔ پس اگر ہم ہر نماز میں دعا کرتے ہوئے سوچا کریں کہ دعا ہم یہ کر رہے ہیں اور کام کون سے کر رہے ہیں؟ دعاؤں کا رستہ اور ہے اور ہمارا چلنے کا رستہ اور ہے؟ تو اسی وقت انسان کے دل پر لرزہ طاری ہو جائے گا ۔ عام انسان سے اگر کچھ مانگے اور دل میں کوئی اور بات ہو تو یہ بھی منافقت ہے اور ایک مکروہ بات ہے مگر خدا سے اور مانگے اور کچھ اور کرنے کے ارادے ہوں تو یہ ایک بہت ہی بڑے خوف کا مقام ہے ۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور والدین سے اور اور اقرباء سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے حسن سلوک سے ، پیش آتے ہیں۔ بہت سے ایسی شکایتیں روزمرہ مجھ تک پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض مرد ہیں جو اپنے گھر میں بھی اپنے بیوی بچوں سے حسن سلوک سے پیش نہیں آتے ان سے کرخت رویہ ہے۔ ان سے ظلم وستم کا ہے ان سے کنجوسیاں کرتے اور ان کو مصیبت میں مبتلاء رکھتے ہیں۔ کا سلوک ایسی بیویاں ہیں جو بے چاری روتی پیٹتی مجھے خط لکھتی ہیں کہ ہمیں تو پیسے کا منہ نہیں دکھاتے گھر میں کچھ ڈال دیا تو ڈال دیا اور وہ بھی ایسا کہ ایک ایک چیز کا حساب رکھتے ہیں زندگی اجیرن ہے۔ بچوں سے حسن سلوک نہیں ہے۔ بچوں کو اس طرح پھینکا ہوا ہے جس طرح وہ بے جان چیزیں ہیں ، ان کو حس ہی کوئی نہیں ۔ ان باتوں میں مبالغہ بھی ہو گا لیکن جو لوگ دنیا کے معاشروں سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہر معاشرے میں اس قسم کے ظلم موجود ہیں ۔ ہو سکتا ہے وہ لکھنے والی غلط لکھ رہی ہو لیکن اور بہت سی ایسی ہیں جو نہ لکھنے والیاں ہیں لیکن ان پر یہ حالات گزرتے ہیں ۔ پس کئی قسم کی مصیبتیں ہیں جو روز مرہ کی زندگی میں ہماری بداخلاقیوں کے نتیجے میں انسانوں پر ڈالی جاتی ہیں اور انسانوں کی زندگیوں کو اجیرن کر دیتی ہیں۔ مردوں کی طرف سے بھی عورتوں کی طرف سے بھی بہوؤں کی طرف سے بھی ساسوں کی طرف سے بھی ، باپوں کی طرف سے بھی اور بچوں کی طرف سے بھی تو دیکھیں یہ دعا جو ہمیں خدا نے سکھائی۔ ان معنوں میں یہ دعا سکھائی کہ اپنے بندوں کا ذکر فرمایا اور کہا کہ انعام یافتہ راہ پر چلنے والے لوگ اس اس قسم کے ہوتے ہیں ۔ جب ہم کہتے ہیں کہ اے خدا ! ہمیں انعام یافتہ