خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 290 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 290

خطبات طاہر جلد ۱۰ 290 خطبه جمعه ۵/ اپریل ۱۹۹۱ء ہمیں اس کچی دعا کی توفیق عطا فرمادے اور امر واقعہ یہ ہے کہ جب آپ اس سارے مضمون کو قرآن کے بیان کی روشنی میں پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں تو یہ دعا بہت مشکل اور مشکل تر ہوتی چلی جاتی ہے۔بہت سے ایسے مقام آتے ہیں کہ جب انسان کا دل کانپ جاتا ہے، ڈر جاتا ہے اور اسے اس دعا کی تفصیل کے ساتھ ہمت نہیں پڑتی۔ان دعا کرنے والوں کی وہ تفصیل جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے ایک تاریخ کی صورت میں کھول کر رکھ دی ہے اس تفصیل کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ دعا مانگنے کی ہمت نہیں پڑتی۔پس ايَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی شدید ضرورت ہے کہ مدد مانگی جائے کہ اتنی اتنی ہمیں دعا سکھا اتنی اتنی دعا مانگنے کی توفیق عطا فرما جو تیری مدد سے آسان ہوتی چلی جائے اور طبعا سچائی کے ساتھ دل سے اٹھے نہ کہ بناوٹ کے ساتھ ہونٹوں سے نکلے۔اس ضمن میں میں نے قرآن کریم کے آغاز سے لے کر آخر تک چند قر آنی بیانات کو اس دعا کے ساتھ منسلک کر کے آپ کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ کیا لیکن جب میں نے سورہ بقرہ سے بات شروع کی تو یہ مضمون اتنا بڑھ گیا کہ ناممکن تھا کہ ایک، دو، تین ، چار، پانچ ، دس جمعوں میں بھی اس کا حق ادا کیا جائے۔پس میں نے کچھ نمونے سورۃ بقرہ سے لئے ہیں آپ کو سمجھانے کے لئے کہ جب آپ قرآن کریم کا مطالعہ کریں گے تو اس دعا کے ساتھ منسلک کر کے مطالعہ کریں اور پھر ہر دفعہ یہ سوچیں کہ میں یہ دعا مانگا کرتا ہوں اور آئندہ بھی یہ دعا مانگا کروں گا اور پھر میں نے کچھ ٹکڑے کہیں سے، کچھ ٹکڑے کہیں سے غرضیکہ چند نمونے قرآن کریم کی مختلف جگہوں سے اکٹھے کئے تا کہ آپ کو اس دعا کا مطلب سمجھاؤں جو ہم سب روزانہ بار بار مانگتے ہیں اور اکثر ہم میں سے جانتے ہی نہیں کہ ہم کیا مانگ رہے ہیں۔پس جو کچھ آپ مانگیں ہوش سے مانگیں سمجھ کر مانگیں کہ کیا مانگا جار ہاہے پھر اللہ تعالیٰ سے فضل کی امید رکھیں اور اس سے رحم کے طلب گار ہوں کہ وہ ان مشکلوں کو ہمارے لئے آسان کر دے جو ہم ہوشمندی کے ساتھ خود خدا سے طلب کر رہے ہیں۔دیکھیں! ایک چھوٹے سے معاہدے کے لئے جو دنیا کے سودوں میں کیا جاتا ہے آپ ایک قابل وکیل سے مدد چاہتے ہیں۔اس سے مدد چاہتے ہیں کہ کہیں دھوکے میں مبتلا نہ ہو جائیں۔کوئی ایسی بات معاہدے میں نہ لکھی جائے جس کو ہم نبھا نہ سکیں تو وہ معاہدہ جو قرآن کریم کا معاہدہ ہے جسے